انوار خلافت — Page 8
ہو رہی ہیں اور دوسری طرف ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ جو لوگ یہاں آئیں ان کو ہم کچھ باتیں سنائیں اور ان کے فرائض سے ان کو آگاہ کریں اس لئے اب لیکچراروں کو بولنے کے لئے بہت زیادہ زور لگانا پڑتا ہے تاکہ سب کے کانوں تک ان کی آواز پہنچ جائے لیکن پھر بھی نہیں پہنچ سکتی۔اس لئے میرا ارادہ ہے کہ آئندہ لیکچروں کے لئے یہ تدبیر کی جائے کہ لیکچر کسی بند مکان میں نہ ہوں جیسا کہ اس سال ہال میں تجویز تھی بلکہ کھلے میدان میں ہوں اور وہ اس طرح کہ ایک احاطہ بنایا جائے جس کی اطراف کو ڈھلوان کر دیا جائے۔اس طرح بہت سے لوگ لیکچرار کی آواز کو اچھی طرح سن سکیں گے۔یورپ میں اسی طرح کیا جاتا ہے اور بہت سے لوگ آواز کو سن سکتے ہیں حتی کہ دس دس ہزار آدمیوں کا مجمع بھی آسانی سے لیکچر سن سکتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو میں اس جلسہ کے بعد اس لکچر گاہ کے بنانے کی تجویز کروں گا۔اس صورت میں عورتوں کے لئے بھی انتظام ہو سکتا ہے۔اب عورتوں کیلئے انتظام کرنا چاہا تھا اور اسی غرض کیلئے سکول کے ہال میں جلسہ کا انتظام کیا گیا تھا لیکن جگہ ناکافی ہوئی اور پھر گھر پر ہی عورتوں کے لیکچروں کا انتظام کرنا پڑا۔پس اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو آئندہ سال اس طرح جلسہ گاہ کا انتظام کیا جائے گا۔انتظام جلسہ کے متعلق اس قدر کہنے کے بعد میں اپنے مضمون کی طرف لوٹتا ہوں۔اس دفعہ میرا منشاء یہ تھا کہ جب جلسہ پر دوست و احباب آئیں تو میں بعض ایسی باتیں جو بہت ضروری ہیں ان کے سامنے بیان کروں اور کچھ نصائح ( جو اللہ تعالیٰ سمجھائے ) کروں۔لیکن آخر کار میری توجہ اس طرف پھری کہ جہاں نصیحتوں اور دیگر باتوں کی ضرورت ہے۔وہاں یہ بھی ضرورت ہے کہ احباب کو ان مسائل سے بھی واقف کیا جائے جن سے انہیں روز مرہ واسطہ پڑتا ہے۔اس لئے میں نے چاہا کہ ان کو بھی مختصر بیان کر دوں۔