انوار خلافت — Page 106
1+7 سے دعا مانگے کہ اے خدا! مجھ میں بشریت کے لحاظ سے یہ کمزوری ہے کہ اتنے لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا تو میری اس کمزوری کو ڈھانپ دے اور وہ اس طرح کہ ان سب لوگوں کو خود ہی تعلیم دے دے اور خود ہی ان کو پاک کردے۔پس یہی وہ بات ہے جس کے متعلق آنحضرت سال یہ تم کو استغفار کرنے کا ارشاد ہوا ہے۔ذنب کے معنی ایک زائد چیز کے ہیں اور غفر ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔اس سے خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی ہے یہ لن کو یہ بات سکھائی ہے کہ تم یہ کہو کہ میں اس قدر لوگوں کو کچھ نہیں سکھا سکتا پس آپ ہی ان کو سکھائیے اور میری اس انسانی کمزوری کو ڈھانپ دیجئے۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتدائی زمانہ میں ایک ایک سے اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھا کر بیعت لیتے تھے پھر ترقی ہوئی تو لوگ ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کرنے لگے۔پھر حضرت خلیفہ امسیح الاول کے زمانہ میں تو پگڑیاں پھیلا کر بیعت ہوتی تھی اور اب بھی اسی طرح ہوتی ہے۔تو ایک آدمی ہر طرف نہیں پہنچ سکتا۔آنحضرت صلی ایم کے زمانہ میں کوئی مسلمان یمن میں تھا کوئی شام میں کوئی عراق میں تھا کوئی بحرین میں اور کوئی مسجد میں تھا۔اس لئے نہ آنحضرت صلی یا اس تم ہر ایک کے پاس پہنچ سکتے تھے اور نہ وہ آپ تک آسکتے تھے۔جب حالت یہ تھی تو ضرور تھا کہ آپ کی تعلیم میں نقص رہ جاتا لیکن آپ کا دل کبھی یہ برداشت نہ کر سکتا تھا۔اس لئے آپ کو حکم ہوا کہ خدا سے دعا کرو کہ اے خدا! اب یہ کام میرے بس کا نہیں اس لئے تو ہی اسے پورا کر۔کیونکہ شاگرد بہت ہیں اور میں اکیلا مدرس ہوں مجھ سے ان کی تعلیم کا پورا ہونا مشکل ہے۔آج کل تو سکولوں میں یہ قاعدہ ہو گیا ہے کہ ایک استاد کے پاس چالیس یا پچاس سے زیادہ لڑ کے نہ ہوں اور اس سے زیادہ لڑکوں کو جماعت میں داخل نہ کیا جائے۔اور اگر کیا جائے تو ایک اور استاد رکھا جائے۔کیونکہ افسران تعلیم جانتے ہیں کہ اگر ایک جماعت میں بہت زیادہ لڑکے ہوں۔اور ایک اکیلا استاد پڑھانے والا ہو تو لڑکوں کی تعلیم ناقص رہ جاتی ہے۔چنانچہ جن سکولوں میں