انوار خلافت — Page 77
22 کتابوں کے پڑھنے کی طرف توجہ نہیں کی اور ان کا پڑھنا ضروری نہیں سمجھا۔اور اگر پڑھا تو اس وقت پڑھا جبکہ ان کے دل میں یہ بیٹھ چکا تھا کہ اگر ہم نے غیر احمدیوں میں حضرت صاحب کا ذکر کیا تو وہ ناراض ہوجائیں گے اور چندہ نہیں دیں گے۔اگر یہی لوگ پہلے پڑھتے تو کبھی گمراہ نہ ہوتے۔پس حضرت مسیح موعود کی کتب کا پڑھنا بھی نہایت ضروری ہے۔اگر وہ لوگ بھی حضرت صاحب کی کتابیں پڑھتے تو کبھی گمراہ نہ ہوتے۔آپ لوگوں کے لئے علم پڑھنے کے کئی ذرائع ہیں۔اول یہ کہ جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے ہر مہینہ میں ایک یا دو یا تین دفعہ یہاں آئیں اور قرآن شریف پڑھیں۔اور یہ مت خیال کریں کہ اس طرح تو بہت عرصہ میں جا کر قرآن کریم ختم ہو سکے گا کیونکہ آنحضرت سلائی یتیم فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی نیک کام کا ارادہ کر لے اور اس کے کرنے سے پہلے مرجائے تو خدا تعالیٰ اس کا اجر اسی طرح دیتا ہے جس طرح گویا اس نے وہ کام کر ہی لیا۔پس تم میں سے اگر کوئی یہ ارادہ کرلے گا۔اور خدانخواستہ فوت ہو جائے گا تو اس کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا اس شخص کو ملے گا جس نے قرآن کریم بھی ختم کر لیا۔تم خدا کے لئے وقت نکالو اور یہاں آکر اس کے احکام سیکھو۔اگر کوئی ملازم ہیں تو چھٹی لے کر آئیں اور علم دین کو پڑھیں۔اور جو ان پڑھ ہیں وہ پڑھنا سیکھیں اور اگر نہیں پڑھ سکتے یعنی حافظہ کمزور ہے تو دوسروں کی زبانی سنیں۔صحابہ میں سے ایسے لوگ بھی تھے جو بہت کچھ زبانی یا در کھتے تھے۔اور بلا اس کے کہ ان کو لکھنا پڑھنا آئے دین کے پورے عالم تھے اور یہ مشکل بات نہیں حافظ روشن علی صاحب نے سب علم زبانی سن کر ہی حاصل کیا ہے اور بہت بڑے عالم ہیں۔انہوں نے اسی طرح علم پڑھا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول کتاب پڑھتے جاتے اور وہ سنتے جاتے۔اسی طرح انہوں نے سارا علم پڑھا ہے۔پس خواہ کوئی کتنی عمر کا ہو اور اس کو لکھنا پڑھنا بھی نہ آتا ہو تب بھی اگر وہ کوشش کرے تو علم دین سیکھ سکتا ہے۔میں نے ان مشکلات کے دور کرنے کے لئے