انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 193

انوار خلافت — Page 66

۶۶ اٹھاتا تھا۔جو اس کی طرف جھکتا اسے پکڑتا تھا۔جو اس کے آگے گڑ گڑاتا اسے چپ کراتا تھا۔اور جو اس کی پوری پوری اطاعت اور فرمانبرداری کرتا اسے نبی بناتا تھا۔لیکن (نعوذ باللہ ) اب ایسا بخیل ہو گیا ہے کہ خواہ کوئی کتنا ہی روئے چلائے اور کتنے ہی اعمال صالحہ کرے اس نے کہ دیا ہے کہ اب میں کسی کو مونہ نہیں لگاؤں گا اور اگر لگاؤں گا تو ادنی درجہ پر رکھوں گا پورا نبی کبھی نہیں بناؤں گا۔اب بتاؤ آنحضرت صلی ا یتیم کی یہ تک ہے کہ آپ کی امت سے کوئی نبی نہیں بن سکتا یا یہ کہ آپ کے فیض سے آپ کی امت میں سے بھی نبی بن سکتا ہے۔بڑے تعجب کی بات ہے کہ ایک انسان جو تمام جہان کے لئے رحمت اور فضل ہو کر آتا ہے اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس نے آ کر خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی تمام راہوں کو بند کر دیا ہے اور آئندہ نبوت تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔لیکن میں کہتا ہوں نبوت رحمت ہے یا زحمت اگر رحمت ہے تو آنحضرت سلیم کے بعد بند کیوں ہو گئی آپ کے بعد تو زیادہ ہونی چاہئے تھی آپ تو ایک بہت بڑے درجہ کے نبی تھے اس لئے آپ کے بعد جو نبی آتا وہ بھی بڑے درجہ کا ہونا چاہئے تھا نہ یہ کہ کوئی نبی ہی نہ بن سکتا۔دیکھو! دنیا میں مدر سے ہوتے ہیں۔لیکن کسی مدرسہ والے یہ اعلان نہیں کرتے کہ ہمارے مدرسہ میں اپنے لڑکوں کو بھیجو کیونکہ ہمارے مدرسہ کے استاد ایسے لائق ہیں کہ ان کے پڑھائے ہوئے لڑکے ادنی درجہ پر ہی پاس ہوتے ہیں۔لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ آنحضرت سال اسلام کی شان بلند ثابت کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ چونکہ آپ کے شاگرد ادنی درجہ پر پاس ہوتے ہیں اس لئے آپ کی بڑی شان ہے۔لیکن آنحضرت سلیل ایم کی شان پر یہ ایک ایساز بر دست حملہ ہے کہ جو ابھی تک کسی عیسائی یا آریہ نے بھی نہیں کیا۔کیونکہ وہ در حقیقت آپ سے دشمنی رکھتے ہیں اور آپ کو رحمت نہیں بلکہ زحمت سمجھتے ہیں لیکن یہ آپ کو رحمت سمجھ کر پھر یہ درجہ دیتے ہیں۔اور وہ جو دوسروں کے درجہ کو بڑھانے آیا تھا اس کے درجہ کوگھٹاتے ہیں۔مگر ہم رسول کریم سالی میں پیہم کی اس ہتک کو ایک منٹ کے لئے بھی برداشت