انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 193

انوار خلافت — Page 20

آمد۔اور بتایا گیا ہے کہ پہلے وہ نبی آئے گا پھر مسیح دوبارہ آئے گا اور ان دونوں پیشگوئیوں میں احمد کا نام ہی موجود نہیں۔پس جب اسمه احمد والی آیت کو اگر مطابق مضمون اس آیت کے بجائے رسول کریم کے چسپاں کرنے کے آپ کے کسی خادم پر چسپاں کیا جائے تو قرآن کریم کی کسی اور آیت کی تکذیب نہیں ہوتی اور آنحضرت سلیلا پسیان پھر بھی حضرت مسیح کے موعود رہتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اس آیت کے مضمون کو توڑ مروڑ کر آپ پر صرف اس لئے چسپاں کیا جائے تایہ ثابت ہو کہ آپ کے بعد کوئی اور رسول نہیں آسکتا۔کیا خدا تعالیٰ کا خوف دلوں سے اٹھ گیا ہے کہ اس طرح اس کے کلام میں تحریف کی جاتی ہے اور صریح طور پر اس کے غلط معنی کر کے اس کے مفہوم کو بگاڑا جاتا ہے۔جب تک حق نہ آیا تھا اس وقت تک کے لوگ مجبور تھے لیکن اب جبکہ واقعات سے ثابت ہو گیا ہے کہ احمد سے مراد آنحضرت صلی لا الہ یام کا ایک خادم ہے تو پھر بھی ہٹ دھرمی سے کام لینا شیوہ مؤمنانہ نہیں۔انجیل میں آپ کا نام محمد " آیا ہے پھر ایک عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو یہ زور دیا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی یا پی ایم کا نام احمد تھا اور دوسری طرف یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ انجیل میں آنحضرت سلیم کا نام محمد آیا ہے۔جبکہ انجیل میں آپ کا نام محمد آیا ہے تو پھر اسمُهُ أَحْمَدُ والی پیشگوئی آپ پر چسپاں کرنا گویا آپ کی تکذیب کرنا ہے کیونکہ انجیل تو صریح محمد نام سے آپ کی خبر دیتی ہے اور اس پیشگوئی میں کسی احمد نام رسول کی خبر دی گئی ہے تو کیا صاف ثابت نہیں ہوتا کہ وہ پیشگوئی اور ہے اور یہ اور۔اور کیا اس پیشگوئی کو آپ پر چسپاں کرنے والا قرآن کریم پر غلط بیانی کا الزام نہیں لگا تا کہ انجیل میں تو محمد نام لکھا تھا لیکن قرآن کریم احمد نام بتا تا ہے۔ایسا شخص ذرا غور تو کرے کہ اس کی یہ حرکت اسے کس خطرناک مقام پر کھڑا کر دیتی ہے اور وہ اپنا شوق پورا کرنے کے لئے قرآن کریم اور رسول کریم کی بھی تکذیب کر دیتا ہے۔جس انجیل میں