انوار خلافت — Page 19
۱۹ دوسری صورت یہ تھی کہ اِسمُه اَحْمَدُ والی پیشگوئی میں کوئی ایسا لفظ ہوتا جس کی وجہ سے ہم کسی غیر پر اسے چسپاں نہ کر سکتے مثلاً یہ لکھا جاتا کہ وہ خاتم النبین ہوگا اور چونکہ خاتم النبین صرف رسول کریم ہی ہیں اور ایک ہی شخص خاتم النبین ہو سکتا ہے اس لئے ہم کہہ سکتے تھے کہ گو بعض نشانات آپ کے وقت میں اپنے ظاہر الفاظ میں پورے نہیں ہوئے لیکن جبکہ ایک ایسی صریح علامت موجود ہے جو آپ کے سوا کسی اور میں پائی ہی نہیں جاسکتی تو ان باتوں کی کوئی اور تاویل ہوگی اور بہر حال یہ پیشگوئی آپ پر ہی چسپاں ہوتی ہے لیکن یہ بات بھی نہیں۔اس پیشگوئی میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ پیشگوئی خاتم النبین کے متعلق ہے۔نہ کوئی اور ایسا لفظ ہے جس کی وجہ سے ہمیں یہ پیشگوئی ضرور آنحضرت سلیہ اتم پر چسپاں کرنی پڑے۔سوم با وجود آپ کا نام احمد نہ ہونے کے آپ پر یہ پیشگوئی چسپاں کرنے کی یہ وجہ ہو سکتی تھی کہ آپ نے خود فرما دیا ہوتا کہ اس آیت میں جس احمد کا ذکر ہے وہ میں ہی ہوں لیکن احادیث سے ایسا ثابت نہیں ہوتا نہ سچی نہ جھوٹی نہ وضعی نہ قوی نہ ضعیف نہ مرفوع نہ مرسل کسی حدیث میں بھی یہ ذکر نہیں کہ آنحضر مسایلیا ایلیم نے اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں فرمایا ہو اور اس کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیا ہو۔پس جب یہ بھی بات نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم خلاف مضمون آیت کے اس پیشگوئی کو آنحضرت صلی یا ہم پر چسپاں کریں۔ایک چوتھی مجبوری بھی ہو سکتی تھی جس کی وجہ سے ہم یہ آیت رسول کریم ملایشیا کی تم پر چسپاں کرنے کے لئے مجبور تھے اوروہ یہ کہ انجیل میں صرف ایک ہی نبی احد کی خبر دی گئی ہوتی۔اس صورت میں واقعہ میں مشکل تھی کہ اگر اس پیشگوئی کو ہم کسی اور شخص پر چسپاں کر دیتے تو رسول کریم مسیح کے موعود نہ رہتے حالانکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ آپ حضرت مسیح ناصری کے موعود ہیں۔لیکن انجیل میں ہم دونبیوں کے آنے کی خبر پاتے ہیں۔ایک وہ نبی جو تمام نبیوں کا موعود ہے اور جس کا آنا گویا خدا تعالیٰ کا آنا قرار دیا گیا ہے۔اور دوسرے مسیح کی دوبارہ