انوار خلافت — Page 177
122 تناسخ کی رو سے آنہیں سکتا مگر اس کی علامتیں پوری ہو گئی ہیں۔اس لئے ہم یہ مان لیں کہ کوئی شخص اس کی خو بو پر آئے گا۔پھر کہا گیا ہے کہ بدھ دوبارہ آئے گا اور اس کے آنے کی علامتیں بھی پوری ہوگئی ہیں۔لیکن وہ تناسخ کی رو سے آنہیں سکتا اس لئے ہمیں ماننا پڑے گا کہ کوئی شخص اس کے کمالات حاصل کر کے اس کا نام پا کر آئے گا۔اسی طرح کہا گیا تھا کہ مسیح دوبارہ آئے گا۔اور اس کے دوبارہ آنے کی جو علامتیں بتائی گئی تھیں وہ پوری بھی ہوگئی ہیں۔لیکن چونکہ وہ فوت ہو چکا ہے۔اس لئے ماننا پڑے گا کہ مسیح کے رنگ میں کوئی اور آئے گا نہ کہ وہی مسیح۔اسی طرح آنحضرت مسالہ بیان کے متعلق پیشگوئی تھی کہ آپ دوبارہ مبعوث ہوں گے لیکن چونکہ حقیقتا آپ کا آنا تعلیم قرآن کے خلاف ہے اس لئے یہی تسلیم کرنا ہوگا کہ آپ ہی دوبارہ نہیں آئیں گے بلکہ آپ کا بروز اور مثیل آئے گا۔پس جبکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ کوئی شخص مرکر دوبارہ دنیا میں نہیں آسکتا اور یہ بھی ثابت ہے کہ تناسخ ایک باطل عقیدہ ہے اور یہ بھی پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ حضرت کرشن ، بدھ مسیح “ اور آنحضرت صلی ایام کے دوبارہ آنے کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ سچی ہیں تو اب سوائے اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ ان سب کے رنگ اور صفات میں کوئی اور آئے گا۔اور جب کہ ان کے مثیلوں کا آنا ثابت ہوا۔تو پھر ایک ہی شخص کا ان سب کا مثیل ہو جانا بالکل ممکن ہے اور الگ الگ آدمیوں کے آنے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ صفات ایک آدمی میں بہت سی اکٹھی ہو سکتی ہیں۔کیا یہ نہیں ہوتا کہ ایک شخص بہادر بھی ہو اور شریف بھی سخی بھی ہو اور رحم دل بھی۔حاتم ایک بڑا سخی انسان ہوا ہے۔جب کوئی بہت سخی ہو تو اسے حاتم کہتے ہیں۔رستم ایک بڑا بہادر ہوا ہے اور جس میں بہت بہادری پائی جائے اسے رستم کہتے ہیں۔افلاطون ایک بڑا فلسفی ہوا ہے اور جو کوئی بڑا فلسفی ہوتو اسے افلاطون کہتے ہیں۔جالینوس ایک بڑا طبیب ہوا ہے اور جو کوئی بڑا طبیب ہو تو اسے جالینوس کہتے ہیں۔لیکن کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی شخص بڑا سخی بھی ہو، بڑا بہادر بھی