انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 193

انوار خلافت — Page 165

ܬܪܙ طرف توجہ کی اور اس کی غیرت نے جوش مارا اور اس کی ربوبیت نے چاہا کہ جس طرح ابتداء میں دنیا میں ایک مذہب تھا اور اسی ایک پر ہی سب لوگ تھے پھر ایسا ہی ہو۔اس کے لئے اس نے ایک ایسا نبی بھیجا جو تمام دنیا کے لئے تھا اور جو سب کو ایک کرنے آیا تھا اور وہ آنحضرت صلی ایام تھے۔خدا تعالیٰ نے چاہا کہ جس طرح وہ آسمان پر ایک ہے اسی طرح اس کے بندوں میں بھی ایک ہی رسول آئے جو تمام دنیا کو اس کی طرف بلائے۔چنانچہ ایک ایسا ہی نبی آیا۔لیکن سنت اللہ کے مطابق ضروری تھا کہ جس طرح اس سے پہلے آنے والے نبیوں کی مخالفت کی گئی اسی طرح اس کی بھی کی جائے۔اور مخالفت کا ہونا ضروری بھی ہے کیونکہ جب تک مخالفت نہ ہو صداقت اور حقانیت اچھی طرح نہیں کھلتی۔پس ضروری تھا کہ اس نبی کی مخالفت بھی ہو۔چنانچہ ہوئی اور بڑے زور سے ہوئی اس لئے ایک اور مذہب قائم ہو گیا۔لیکن اس نبی کے مبعوث کرنے سے جو خدا تعالیٰ کا یہ منشاء تھا کہ تمام دنیا پر ایک مذہب ہو۔وہ زائل نہ ہوا خدا تعالیٰ نے اس کے لئے یہ تجویز کی کہ آنحضرت صلی اسلام کے ذریعہ اس کی ابتداء کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اس کی انتہاء رکھی۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرما دیا که هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِةَ الْمُشْرِكُونَ (القف : ١٠) لا خدا وہ ہے جس نے اپنا ایک رسول ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے اور اس لئے بھیجا ہے تاکہ تم سب ایک امت بن جاؤ۔اور ایسا ہی ضرور ہوکر رہے گا۔خواہ مشرک لوگ اس کو نا پسند ہی کرتے ہوں۔تمام علم حقیقی علم رکھنے والے اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے۔تو خدا تعالیٰ نے اپنی اس تجویز کو آنحضرت سائیلی ایام کے وقت میں پورا نہ کیا بلکہ آپ کے خادموں میں سے ایک کو رسول بنا کر کھڑا کر دیا اور اس کے ہاتھ سے اس غرض کو پورا کرایا۔اس میں شک نہیں کہ آنحضرت سالی یا پیلم کو خدا تعالیٰ نے تمام دنیا کے لئے بھیجا اور چاہا