انوار خلافت — Page 150
۱۵۰ بھجوادی اور ان کو بھی رخصت کیا۔چونکہ حضرت ابوبکر کے چھوٹے لڑکے محمد ان باغیوں کے فریب میں آئے ہوئے تھے۔ان کو ایک عورت نے کہلا بھیجا کہ شمع سے نصیحت حاصل کر ووہ خود جلتی ہے اور دوسروں کو روشنی دیتی ہے پس ایسا نہ کرو کہ خود گنہگار ہو کر ان لوگوں کے لئے خلافت کی مسند خالی کرو جو گنہ گار نہیں۔خوب یا درکھو کہ جس کام کے لئے تم کوشش کر رہے ہو وہ کل دوسروں کے ہاتھ میں جائے گا۔اور اس وقت آج کا عمل تمہارے لئے باعث حسرت ہوگا۔لیکن ان کو اس جوش کے وقت اس نصیحت کی قدر معلوم نہ ہوئی۔غرض ادھر تو حضرت عثمان اہل مدینہ کی حفاظت کے لئے ان کو باغیوں کا مقابلہ کرنے سے روک رہے تھے اور ادھر آپ کے بعض خطوط سے مختلف علاقوں کے گورنروں کو مدینہ کے حالات کا علم ہو گیا تھا اور وہ چاروں طرف سے لشکر جمع کر کے مدینہ کی طرف بڑھے چلے آرہے تھے۔اسی طرح حج کے لئے جو لوگ جمع ہوئے تھے ان کو جب معلوم ہوا۔تو انہوں نے بھی یہ فیصلہ کیا کہ حج کے بعد مدینہ کی طرف سب لوگ جائیں اور ان باغیوں کی سرکوبی کریں۔جب ان حالات کا علم با غیوں کو ہوا تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ یہ غلطی جو ہم سے ہوئی ہے کہ ہم نے اس طرح خلیفہ کا مقابلہ کیا ہے اس سے پیچھے ہٹنے کا اب کوئی راستہ نہیں۔پس اب یہی صورت نجات کی ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کوقتل کر دو۔جب انہوں نے یہ ارادہ کر کے حضرت عثمان کے مکان پر حملہ کیا تو صحابہ تلوار میں کھینچ کر حضرت عثمان کے دروازہ پر جمع ہو گئے۔مگر حضرت عثمان نے ان کو منع کیا اور کہا کہ تم کو میں اپنی مدد کے عہد سے آزاد کرتا ہوں تم اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ لیکن اس خطر ناک حالت میں حضرت عثمان کو تنہا چھوڑ دینا انہوں نے گوارا نہ کیا اور واپس لوٹنے سے صاف انکار کر دیا۔اس پر وہ اسی سالہ بوڑھا و جو ہمت میں بہادر جوانوں سے زیادہ تھا ہاتھ میں تلوار لے کر اور ڈھال پکڑ کر اپنے گھر کا دروازہ کھول کر مردانہ وارصحابہ کو روکنے کے لئے اپنے خون