انوار خلافت — Page 113
۱۱۳ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت پائی ہے آپ کے مونہہ سے باتیں سنی ہیں آپ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کیا ہے۔ان کا فرض ہے کہ وہ آنے والوں کے لئے ہدایت اور راہنمائی کا باعث ہوں۔کیونکہ کوئی ایک شخص بہتوں کو نہیں سکھا سکتا۔دیکھو اسی جلسہ پر خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنے لوگ آئے ہیں کہ ان سب تک مشکل سے میری آواز پہنچ سکتی ہے مگر جب لاکھوں اور کروڑوں انسان آئے تو انہیں کون ایک شخص سنا سکے گا۔لیکن بتلاؤ اگر ایک ہی سنانے والا ہو ا تو یہ کیسا دردناک نظارہ ہوگا کہ کچھ لوگ تو سن رہے ہوں گے اور کچھ لوگ پکوڑے کھا رہے ہوں گے۔وہ سنیں گے کیا اور یہاں سے لے کر جائیں گے کیا۔وہ اس اطاعت سے واقف نہ ہوں گے جو انبیاء لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں۔وہ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ ایک دفعہ رسول کریم ملی یہ پہلی تقریر فرما ر ہے تھے آپ نے لوگوں کو فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔عبداللہ بن مسعودؓ ایک گلی میں چلے آرہے تھے آپ کی آواز انہوں نے وہاں ہی سنی اور وہیں بیٹھ گئے۔کسی نے پوچھا آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں وہاں رسول کریم مالی اسلم کی تقریر ہورہی ہے وہاں کیوں نہیں جاتے۔انہوں نے کہا میرے کان میں رسول کریم صلی سیستم کی آواز آئی ہے کہ بیٹھ جاؤ پس میں یہیں بیٹھ گیا۔(ابو داؤد کتاب الصلوة باب الامام يكلم الرجل في خطبته ) پھر ان کے سامنے یہ نظارہ نہ ہو گا کہ آنحضرت سال یا پریتم کی مجلس میں تین شخص آئے ایک کو آگے جگہ مل گئی وہ وہاں جا کر بیٹھ گیا دوسرے کو آگے جگہ نہ ملی وہ جہاں کھڑا تھا وہیں بیٹھ گیا۔تیسرے نے خیال کیا کہ یہاں آواز تو آتی نہیں پھر ٹھہرنے سے کیا فائدہ وہ واپس چلا گیا۔آنحضرت صلی یہ تم نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ ایک نے تمہاری مجلس میں قرب حاصل کرنے کے لئے کوشش کی اور محنت کی اور آگے ہو کر بیٹھ گیا خدا تعالیٰ نے بھی اسے قریب کیا۔ایک اور آیا اس نے کہا اب مجلس میں آ گیا ہوں اگر اچھی جگہ نہیں ملی تو نہ سہی