انوار خلافت — Page 9
پیغامیوں کی بدزبانی १ اس وقت جماعت احمدیہ میں اختلاف کی وجہ سے بہت جھگڑا پیدا ہو گیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ فریق ثانی نے تہذیب اور شرافت کو بالکل ترک کر دیا ہے اور ہمیں اس قدر گالیاں دی ہیں کہ غیر احمدی اخباروں نے بھی آج تک نہیں دی تھیں۔میری نسبت اس وقت تک جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ تو ایک بہت بڑی فہرست ہے جس کا اس مختصر وقت میں بیان کرنا مشکل ہے لیکن اس میں سے کسی قدر میں بتاتا ہوں۔وہ عام طور پر اور کثرت سے مجھے نوح" کا بیٹا کہتے ہیں یعنی وہ جو حضرت نوح" کے کشتی پر سوار ہونے کے وقت باوجود حضرت نوح کے بلانے کے ان کے پاس نہ آیا اور ان کو اس نے قبول نہ کیا اور طوفان میں غرق ہو گیا اور وہ جو کافروں میں سے تھا بلکہ کفار کا سردار تھا اور جو شرارت میں اس قدر بڑھا ہو ا تھا کہ قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔اور اپنے قول کی وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام چونکہ خدا تعالیٰ نے نوح“ رکھا ہے اور تم ان کے بیٹے ہو پس تم نوح کے بیٹے ہو۔ہم کہتے ہیں حضرت مسیح موعود کو تو ابراہیم بھی کہا گیا ہے جن کا بیٹا اسماعیل “ تھا تو اگر تمہاری ہی دلیل درست ہے تو پھر مجھے اسماعیل کیوں نہیں کہتے پھر وہ میری نسبت کہتے ہیں کہ یہ دجال ہے کذاب ہے، مفتری ہے خائن ہے لوگوں کے مال کھا جاتا ہے خدا سے دور ہے پوپ ہے وغیرہ وغیرہ۔غرض یہ اور اسی قسم کے اور بہت سے الفاظ ہیں جو میری نسبت وہ استعمال کرتے ہیں لیکن مجھے ان کے اس طرح کہنے سے کچھ گھبراہٹ نہیں اور میرا دل ذرا بھی ان کی باتوں سے متاثر نہیں ہوتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جب انسان دلائل سے شکست کھا تا اور ہار جاتا ہے تو گالیاں دینی شروع کر دیتا ہے اور جس قدر کوئی زیادہ گالیاں دیتا ہے اسی قدرا اپنی شکست کو ثابت کرتا ہے۔آپ لوگوں نے کئی دفعہ دیکھا ہو گا کہ ایک کمزور شخص مار تو کھاتا جاتا ہے لیکن گالیاں بھی دے رہا ہوتا ہے تو اب چونکہ ہم ان کو شکست پر شکست