انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 193

انوار خلافت — Page 81

کرو۔وہ کہتا میں نے قبول کیا۔پھر وہ اسے کہتا اس بوجھ کو کہاں اٹھا کر لے جاؤ گے۔اس کو میرے پاس ہی بیچ دو اور دو تین روپے لے لو۔اس طرح وہ اس کو دو تین روپے دے کر سارا مال گھر میں ہی رکھ لیتا۔وہ آدمی خوب سمجھتا کہ اس گڑھے میں روپے ہیں لیکن اس ڈر سے کچھ نہ کہہ سکتا کہ اگر میں نے کچھ کہا تو ان دو تین روپوؤں سے بھی جاؤں گا۔تو اس قسم کے حیلے تراشے جاتے ہیں اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ جاہل لوگ نہیں جانتے کہ زکوۃ دینے کی کیا شرائط ہیں۔آنحضرت سالی ایم نے تو یہاں تک فرما دیا ہے کہ جو شخص کسی کو صدقہ کا مال دے وہ اس سے نہ خریدے۔معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی ایام کو معلوم تھا کہ ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ لوگ رو پوؤں پر گیہوں رکھ کر دھوکا دیں گے اور خود ہی خرید لیں گے۔اس لئے فرما دیا کہ کوئی صدقہ کا مال دے کر پھر نہ خریدے۔اگر یہ بات انہیں معلوم ہو تو کیوں ایسا کریں۔یہ زکوۃ کا رسالہ بارہ صفحات کا ہے۔اس کو اگر آپ لوگ اچھی طرح پڑھ لیں اور یاد کر لیں تو کوئی مولوی ان مسائل کے متعلق آپ سے گفتگو کرنے کی جرات نہیں کر سکے گا۔یہ ٹریکٹ بہت محنت اور تحقیق سے تیار کیا گیا ہے۔جلسہ کے قریب میں نے علماء کی ایک کمیٹی میں بیٹھ کر اور کتب حدیث وفقہ سامنے رکھ کر اس کو تیار کروایا ہے۔پڑھنے والے کو معلوم نہیں ہوسکتا کہ فیج اعوج کے زمانہ میں کسی مسئلہ کے متعلق تحقیق کرنے میں کس قدر مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔جنہوں نے یہ کام کیا ہے وہی اس کی مشکلات کو سمجھ سکتے ہیں۔کئی مسائل ایسے ہیں کہ آئمہ نے ابتداء احادیث کے مرتب نہ ہونے کی وجہ سے ان میں قیاس سے کام لیا ہے لیکن ہمارے پاس احادیث نہایت مرتب صورت میں موجود ہیں پس ہمیں ان مسائل پر از سر نو غور اور تحقیق کی ضرورت ہوئی۔اسی طرح اور بہت سی مشکلات تھیں جن کو دور کر کے یہ رسالہ تیار کیا گیا ہے جو خدا کے فضل سے بہت عمدہ تیار ہوا ہے۔یہ رسالہ بارہ صفحات کا ہے۔اسی طرح کے اور بھی چھوٹے چھوٹے رسائل مختلف مسائل مثلاً وراثت ، طلاق ، صدقہ ، نکاح وغیرہ کے متعلق