انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 193

انوار خلافت — Page 73

۷۳ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (الزمر: ۱۰) کہہ دے کہ کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں ان کے برابر ہو سکتے ہیں جو علم سے بے بہرہ ہیں یعنی یہ دونوں ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔اور آنحضرت سال پیتم فرماتے ہیں کہ عالم جو عابد ہو وہ جاہل عابد سے بڑھ کر ہوتا ہے جیسا که فرما یا فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِى على اذنا كُر ( ترمذی ابواب العلم باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ) یعنی عالم ( جو عابد بھی ہو) کو عابد (جو عالم نہ ہو ) پر اسی قدر فضیلت ہے جس قدر کہ مجھے تم میں سے ادنیٰ سے ادنی انسان پر فضیلت ہے۔ہماری جماعت جس نے خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے ہاتھ پر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے میں اس سے پوچھتا ہوں کہ کیا اسے قرآن شریف کے پڑھنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے یا نہیں۔اس وقت دنیا کے علوم سیکھنے میں جو قو میں لگی ہوئی ہیں ان کو دیکھو وہ کس طرح رات دن ان علوم کے سیکھنے میں صرف کرتی ہیں بعض لوگوں کا میں نے حال پڑھا ہے کہ انہوں نے بعض زبانیں بڑی بڑی عمروں میں سیکھی ہیں چنانچہ ایک انگریز کی نسبت لکھتے ہیں کہ اس نے ستر سال کی عمر میں لاطینی زبان سیکھنے کی طرف توجہ کی اور خوب اچھی طرح سے اسے سیکھ لیا پھر آپ لوگ جو دین کی خدمت کے لئے اور قرب الہی کے حاصل کرنے کے لئے کمر بستہ ہوئے ہیں آپ کو اس قانون کے سیکھنے کی طرف کس قدر توجہ کرنی چاہئے۔مگر غور تو کرو کہ تم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اتنی عمر میں قرآن شریف کے پڑھنے کی کوشش کی ہے۔قرآن شریف تو وہ کتاب ہے جس میں ایسی ایسی باتیں ہیں کہ اگر ہم ان سے واقف ہو جائیں تو اس دنیا میں بھی سکھ پاسکتے ہیں اور اگلے جہان میں بھی آرام سے رہ سکتے ہیں۔پس کیسا غافل ہے وہ انسان جو اپنے پاس خدا تعالیٰ کی کتاب کے ہوتے ہوئے اس کو نہ پڑھے۔دنیا میں اگر کسی کے نام چھوٹی سے چھوٹی عدالت کا سمن آئے تو اس کو بڑی توجہ سے پڑھتا ہے اور جو خود نہ پڑھ سکتا ہو وہ ادھر ادھر گھبرایا ہوا پھرتا ہے کہ کوئی پڑھا ہوا ملے تو اس سے پڑھاؤں اور سنوں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔اور جب تک پڑھانہ لے اسے صبر نہیں آتا۔پھر اگر کسی کا