انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 193

انوار خلافت — Page 72

۷۲ اگر لاکھوں آدمیوں کو کہوں تو وہ میری جگہ جان دینے کے لئے تیار ہیں۔(طبقات ابن سعد جلد ۳ صفحه ۱۹۱ مطبوعہ لندن ۱۳۲۱ھ) اس واقعہ سے اور نیز اس قسم کے اور بہت سے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کس حالت میں تھے اور رسول کریم کی اتباع سے ان کی کیا حالت ہوگئی۔اور انہوں نے وہ درجہ اور علم پایا جو کسی کو حاصل نہ تھا۔یہ قصہ میں نے اس لئے سنایا ہے کہ دیکھو ایک اونٹ چرانے والے کو دین اور دنیا کے وہ وہ علم سکھائے گئے جو کی کو سمجھ نہیں آسکتے۔ایک طرف اونٹ یا بکریاں چرانے کی حالت کو دیکھو کہ کیسی علم سے دور معلوم ہوتی ہے۔اور دوسری طرف اس بات پر غور کرو کہ اب بھی جبکہ یورپ کے لوگ ملک داری کے قوانین سے نہایت واقف اور آگاہ ہیں حضرت عمرؓ کے بنائے ہوئے قانون کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ایک اونٹ کا چرواہا اور سلطنت کیا تعلق رکھتے ہیں لیکن دیکھو کہ انہوں نے وہ کچھ کیا کہ آج دنیا ان کے آگے سرجھکاتی اور ان کی سیاست دانی کی تعریف کرتی ہے۔پھر دیکھو حضرت ابوبکر“ ایک معمولی تاجر تھے۔لیکن اب دنیا حیران ہے کہ ان کو یہ فہم یہ عقل اور یہ فکر کہاں سے مل گیا۔میں بتا تا ہوں کہ ان کو قرآن شریف سے سب کچھ ملا۔انہوں نے قرآن شریف پر غور کیا اس لئے ان کو وہ کچھ آ گیا جو تمام دنیا کو نہ آتا تھا کیونکہ قرآن شریف ایک ایسا ہتھیار ہے کہ جب اس کے ساتھ دل کو صیقل کیا جائے تو ایسا صاف ہو جاتا ہے کہ تمام دنیا کے علوم اس میں نظر آجاتے ہیں اور انسان پر ایک ایسا دروازہ کھل جاتا ہے کہ پھر کسی کے رو کے وہ علوم جو اس کے دل پر نازل کئے جاتے ہیں نہیں رک سکتے۔پس ہر ایک انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کو پڑھنے اور غور کرنے کی کوشش کرے۔دیکھو دنیا کے علوم کے لئے کس قدر محنت اور روپیہ خرچ کیا جاتا ہے۔آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ بچوں کی پڑھائی کے لئے کس قدر روپیہ خرچ کر کے ان کو اس محنت اور مشقت پر لگایا جاتا ہے۔جب دنیا کے علم کے لئے اس قدر کوشش کی جاتی ہے۔تو دین کے علم کے لئے کتنی کوشش کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے۔جیسا کہ فرما یا قُلْ هَلْ