انوار خلافت — Page 59
۵۹ ہے کہ جو بات ایک نبی کے متعلق بیان ہو وہ سب نبیوں میں پائی جانی چاہئے اور وہ شرائط نبوت میں سے ہونی چاہئے۔لیکن ہم اس باطل کو بھی تسلیم کر لیتے ہیں اور فی الحال مان لیتے ہیں کہ نبی وہی ہے جس کے نام کا پہلے کوئی اور شخص نہ گذرا ہو۔اور ثابت کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں جن نبیوں کا ذکر آتا ہے ان کے نام کے آدمی پہلے بھی گذرے ہیں چنانچہ زکریا" ایک نبی ہیں۔اور قرآن شریف نے ان کو نبی قرار دیا ہے لیکن ان سے چارسوسال پہلے ایک نبی ہوئے ہیں ان کا نام بھی زکریا تھا۔اور ان کی کتاب اب تک بائبل میں موجود ہے۔پھر اسی طرح حضرت یحیی کے نام کے پہلے پانچ آدمی گزر چکے تھے جن کا ذکر بائیل میں موجود ہے جن میں سے ایک حضرت داؤڈ سے بھی پہلے ہوئے ہیں۔اب کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ پھر اس آیت کے کیا معنی ہوئے۔میں کہتا ہوں لوگوں نے اس کے معنی غلط سمجھے ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ بشارت کے طور پر ان سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا۔لیکن مشکل وہی ہے کہ اس زمانہ میں جبال علماء بن گئے ہیں اور حقیقی علم ان سے چھین لیا گیا ہے اس لئے اس قسم کی باتیں مونہہ پر لاتے ہیں۔پھر اس معیار کے ماتحت تو حضرت مسیح کی بنوت بھی ثابت نہیں ہوتی۔کیونکہ ان کا نام یسوع ہے اور اس نام کا ایک اور شخص بھی تھا جس کو یسوع بن سائرس کہتے ہیں۔اس کی کتاب بھی اپیو کر فاس میں موجود ہے۔( یعنی بائبل کا وہ حصہ جسے بعض لوگ بائبل میں شامل سمجھتے ہیں اور بعض نہیں اور وہ الگ چھپا ہوا ہے اور جو لوگ اسے بائبل کا حصہ مانتے ہیں ان کی چھاپی ہوئی بائبلوں میں موجود بھی ہے ) تو اب کیا حضرت مسیح “ سے پہلے یسوع نام کا ایک اور شخص ثابت ہو جانے سے آپ کی نبوت باطل ہوگئی۔پھر بڑے تعجب اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ نبی جو خاتم النبین ہے اور جو تمام نبیوں کا سردار ہے۔اس کی نبوت بھی اس دلیل کے مطابق (نعوذ باللہ ) باطل ٹھہرتی ہے۔کیونکہ آپ سے پہلے پانچ شخص ایسے گزرے ہیں جن کا نام محمد تھا۔چنانچہ آپ سے پہلے بنو سواءۃ میں محمد ابنشمی گزرا ہے۔اور ایک محمد اس ابرہہ کے