انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 193

انوار خلافت — Page 57

۵۷ فرشتے نے اسے کہا کہ تو حاملہ ہے۔اور ایک بیٹا جنے گی۔اس کا نام اسماعیل رکھنا کہ خدا وند نے تیرا دکھ سن لیا۔( پیدائش باب ۱۶ آیت کے تا ۱ مطبوعہ 1906 ء ) اب یہ دلیل پیش کرنے والا بتائے کہ خدا اور سن لی دو الگ الگ لفظ ہیں یا نہیں۔اور یہ بھی بتائے کہ یہ نام مرکب ہوا یا مفرد۔پس اگر حضرت اسمعیل با وجود مرکب نام رکھنے کے نبی ہو سکتے ہیں۔تو کیا وجہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب مرکب نام کی وجہ سے نبی نہیں بن سکتے۔لیکن وہ نادان جو نہ عربی جانتا ہے نہ عبرانی۔وہ کہتا ہے کہ کسی نبی کا مرکب نام نہیں ہے۔اور جب نبی کا مرکب نام نہیں تو مرزا صاحب جن کا نام مرکب ہے نبی نہیں ہو سکتے۔پھر ابھی مفتی محمد صادق صاحب نے ایک رقعہ لکھ کر دیا ہے کہ حضرت ابراہیم کا نام ابی اور رہام سے مرکب ہے اور اس کے معنی ہیں بلندی کا باپ۔اور حضرت موسیٰ“ کا نام مواورشی سے مرکب ہے۔مو ( عربی ماء بگڑی ہوئی عربی موسیہ ) کہتے ہیں پانی کو۔اور شی (عربی شیئی ) بمعنی چیز۔یعنی پانی کی چیز ہے۔چونکہ حضرت موسی کو پانی میں ڈالا گیا تھا۔اس لئے آپ کا یہ نام ہوا۔پھر یسوع بھی مرکب نام ہے۔غرض بہت سے نبیوں کے نام مرکب ہیں۔لیکن وہ نادان بوجہ عربی اور عبرانی کا علم نہ رکھنے کے اس بات کو نہیں سمجھا۔اس لئے کہتا ہے کہ تمام نبیوں کے نام مفرد ہیں۔پھر قرآن کریم پر غور کرنے سے ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ اس میں نبیوں کے مخالفوں کے نام بھی مفرد آئے ہیں۔( کیونکہ ابولہب صفت ہے نہ کہ نام ) اب اگر کوئی یہ کہہ دے کہ دنیا میں جس کا نام مرکب ہو وہ شریر نہیں ہوسکتا تو یہ جہالت نہیں تو اور کیا ہے لیکن کیا کیا جائے۔حدیث میں آیا ہے کہ امت محمدیہ پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اس کے اندر سے علم اٹھ جائے گا اور جاہل لوگ عالم کہلائیں گے جو لوگوں کو اپنی بے علمی کی وجہ سے گمراہ کریں گے۔پس چونکہ مسلمانوں پر یہ زمانہ آگیا ہے اور وہ علم و جہالت میں فرق نہیں رسکتے۔اس لئے اس قسم کی باتیں کرتے ہیں جو ان کو مخالفین اسلام کی نظروں میں ذلیل