انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 193

انوار خلافت — Page 56

۵۶ سے نہ پہلے صحفِ انبیاء سے اور ایک عقلمند انسان تو نبی کی یہ علامت سن کر حیران ہو جائے گا کہ نبی وہی ہوتا ہے جس کا نام مفرد ہو۔گویا نبوت کا سب دار و مدار نام پر ہے نہ کہ کام پر لیکن اگر اس دعوی کو قبول کر لیا جائے کہ نبی وہی ہوتا ہے جس کا نام مفرد ہو تو اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ قرآن میں مذکور انبیاء میں سے بھی بعض انبیاء کی نبوت کا انکار کرنا پڑے گا۔کون نہیں جانتا کہ ہمارے رسول کریم مالی نے اسلام کے جد امجد حضرت اسماعیل تھے۔اور آپ کا یہ نام مرکب ہے۔عربی والوں نے اس کے دو حصے کئے ہیں۔ایک سمع اور دوسرا ایل اور عبرانی والے بھی اس نام کے دو ہی حصے کرتے ہیں۔ایک یسمع اور دوسرا ایل۔تو معلوم ہوا کہ عبرانی کے لحاظ سے یسمع اور ایل۔اور عربی کے لحاظ سے سمع اور ایل دو لفظوں سے یہ نام مرکب ہے۔سمع کے معنی ہیں سن لیا۔اور ایل کے معنی ہیں خدا۔ایل در حقیقت عربی زبان کے لفظ آئل سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں قدرت رکھنے والا ، لوٹنے والا۔تو چونکہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم اور کرم کی وجہ سے لوٹنا یعنی متوجہ ہوتا ہے اس لئے اس کا یہ نام ہو گیا۔جس طرح عربی میں خدا تعالیٰ کا ایک نام تو اب ہے۔اور اسی وجہ سے ہے کہ خدا اپنے بندوں کی طرف فضل کے ساتھ لوٹتا ہے۔تو سمع ایل کے معنی ہیں خدا نے سنا۔اس سے بگڑ کر اسماعیل بن گیا۔اور بائبل میں اس نام کے رکھے جانے کی یہی وجہ لکھی ہے۔چنانچہ وہاں لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیم کی چھوٹی بیوی ہاجرہ ان کی بڑی بیوی سارہ کے تنگ کرنے سے گھر سے نکلی تو خدا وند کے فرشتے نے اسے میدان میں پانی کے ایک چشمے کے پاس پایا۔یعنی اس چشمے کے پاس جوصور کی راہ پر ہے۔اور اس نے کہا کہ اے سری کی لونڈی ہاجرہ ! تو کہاں سے آئی اور کدھر جاتی ہے۔وہ بولی کہ میں اپنی بی بی سری کے سامنے سے بھاگی ہوں اور خداوند کے فرشتے نے اسے کہا۔کہ تو اپنی بی بی کے پاس پھر جا اور اس کے تابع رہ۔پھر خداوند کے فرشتے نے اسے کہا کہ میں تیری اولاد کو بہت بڑھاؤں گا کہ وہ کثرت سے گنی نہ جائے۔اور خداوند کے