انوار خلافت — Page 55
جس سے مرزا صاحب کی نبوت بالکل باطل ہو جاتی ہے۔وہ لکھتا ہے : ” خدا تعالیٰ کی طرف سے جس قدر انبیاء دنیا میں آئے ہیں اور انہوں نے مبعوث ہو کر لوگوں کو توحید کا قائل کیا۔منجملہ ان کے ایک بھی ایسا نبی ورسول نہ آیا۔جس کا اسم مبارک دو لفظوں سے مل کر بنا ہو۔بلکہ ہر نبی ورسول منصوص من اللہ کا اسم مبارک نقطہ واحد سے مشتق ہوتا چلا آیا ہے۔( روزنامہ پیسہ اخبار مورخہ ۲۸ / نومبر ۱۹۱۵ء) میہ اور اسی قسم کی اور دلیلیں بھی دی جاتی ہیں جن کو پڑھ کر تعجب ہی آتا ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کل کوئی شخص ایک ایسے نبی کو جسے وہ مانتا ہے خواب میں دیکھ لے کہ اتنی لمبی اس کی داڑھی ہے اتنا قد ہے اس طرح کی شکل ہے تو لکھ دے کہ نبی وہی ہو سکتا ہے۔جس کی اس قسم کی داڑھی ہو اتنا بڑا قد ہواگر ایسا نہ ہوتو نبی نہیں ہوسکتا۔پچھلے نبیوں کی نبوت کے متعلق ان کے نام کا مفرد ہونا دلیل ہی کس طرح ہو سکتی ہے؟ اور کس کو معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ کے ان تمام نبیوں کے نام جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت سالیا اپریتم تک ہوئے ہیں مفرد تھے ؟ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مجھے تمام انبیاء کے نام معلوم ہیں تو وہ جھوٹا ہے اور جھوٹا دعویٰ کرتا ہے۔کیونکہ جب خدا تعالیٰ آنحضرت صلی نیلم کو فرماتا ہے کہ وَلَقَد أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِن قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ (المؤمن :۷۹) اور ضرور ہم نے تجھ سے پہلے رسولوں کو بھیجا ہے ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کا ذکر ہم نے تجھ پر کر دیا ہے۔اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کا تجھ سے ذکر نہیں کیا یعنی خدا تعالیٰ نے آنحضرت سلائی کی تم کو بھی بعض انبیاء کے نام نہیں بتائے تو اب اور کون ہے جس کو تمام انبیاء کے نام معلوم ہوں۔اور اگر کسی کو دعوی ہے تو کم سے کم ان ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کے نام ہی ہم کو بتائے جن کا ذکر حدیث میں آتا ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحه ۲۶۶) غرض اول تو یہ دعویٰ ہی غلط ہے کہ تمام انبیاء کے نام مفرد تھے۔اور اگر بفرض محال درست بھی ہو تو یہ کوئی ثبوت نہیں کیونکہ اس بات کا ثبوت نہ قرآن کریم سے ملتا ہے نہ احادیث