انوار خلافت — Page 51
۵۱ تم گمراہ نہ تھے کہ خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ تم کو ہدایت دی اور کیا جب میں آیا ہوں تم غریب نہ تھے کہ خدا تعالیٰ نے تم کو مالدار کر دیا۔اور کیا تم آپس میں دشمن نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو دوست بنادیا۔انصار نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ ! اللہ اور اس کے رسول کے فضل اور احسان سے ایسا ہی ہوا۔پھر فرمایا کہ اے انصار ! تم مجھے جواب کیوں نہیں دیتے انہوں نے عرض کیا کہ ہم کیا جواب دیں۔فرمایا تم چاہو تو کہہ سکتے ہو اور تمہاری بات جھوٹی بھی نہ ہوگی کہ تو ہمارے پاس ایسے وقت میں آیا کہ لوگ مجھے جھٹلاتے تھے ہم نے تیری تصدیق کی۔اور کوئی تیرے ساتھ نہ تھا پھر ہم نے تیری مدد کی۔اور تو دھتکارا ہوا تھا ہم نے تجھے جگہ دی۔اور تو غریب تھا ہم نے تیری ہمدردی کی۔اے انصار ! تم نے دنیا کے مال کے لئے جس کے ذریعہ سے میں نے ایک نئی قوم کے قلوب کی تالیف کی تھی اپنے دلوں میں بر امنا یا۔اے انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ اپنے گھروں کو لے جائیں اور تم اپنے گھروں کو خدا کے رسول کو لے جاؤ۔مجھے اسی خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہونا پسند کرتا۔اور اگر لوگ ایک وادی میں جائیں اور انصار دوسری وادی میں تو میں اس وادی میں جاؤں جس میں انصار گئے ہوں۔اے خدا! انصار پر رحم کر اور ان کے بیٹوں پر اور ان کی بیٹیوں پر۔اس پر انصار اس قدر روئے کہ ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الطائف۔۔۔الخ ) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ملائیشیا ایلم کے زمانہ میں ہجرت کا درجہ بلند تھا۔اور قرآن کریم میں بھی ہجرت پر خاص زور ہے پس اگر رسول کریم کا زمانہ مراد ہوتا تو انصار سے پہلے ہجرت کا ذکر ہوتا اور یہ لکھا ہوتا کہ مہاجرین و انصار میں داخل ہو جاؤ۔لیکن اس جگہ ہجرت کا ذکر بھی نہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسا زمانہ ہے کہ جب ہجرت فرض نہ ہوگی اور وہ یہی زمانہ ہے۔