انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 193

انوار خلافت — Page 50

باغوں میں۔یہ تمہارے لئے بہت بڑی کامیابی ہوگی۔اور ایک اور بات تمہیں نصیب ہوگی جس کو تم چاہتے ہو یعنی خدا کی نصرت تمہارے لئے آئے گی اور جلدی کامیابی ہوگی۔اور یہ مؤمنوں کے لئے بشارت ہے۔آٹھویں دلیل اس کے بعد فر ما یا يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِينَ مَنْ أَنْصَارِى إِلَى اللهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ ط T فَأَمَنَتْ ظَابِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ وَكَفَرَتْ ظَابِفَةٌ ، فَأَيَّدُنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظُهِرِينَ) (الصف:۱۵)اے وہ لوگو! جو رسول پر ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے مدد کرنے والے بن جاؤ جیسا کہ عیسی بن مریم نے حواریوں کو کہا تھا کہ تم میں سے کون ہے جو انصار اللہ ہو تو انہوں نے کہا کہ ہم سب کے سب انصار اللہ ہیں۔پس ایمان لایا بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ اور ایک گروہ نے کفر کیا۔پس ہم نے ان کی مدد کی جو ایمان لائے او پر ان کے دشمنوں کے پس وہ غالب ہو گئے۔اس میں یہ دلیل ہے کہ آنے والا رسول لوگوں کو کہے گا کہ انصار اللہ بن جاؤ۔لیکن رسول کریم صلای ایام کی یہ آواز نہ تھی کہ اے لوگو انصار بن جاؤ۔بلکہ آپ کے وقت میں مہاجرین وانصار دو گروہ تھے۔اور مہاجرین کا گروہ انصار پر فضیلت رکھتا تھا۔چنانچہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ حنین کے بعد جب بہت سا مال غنیمت آیا اور آپ نے اسے تالیف قلب کے طور پر مکہ کے نو مسلموں میں تقسیم کر دیا تو انصار میں سے بعض نے اعتراض کیا کہ خون تو اب تک ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے لیکن مال رسول اللہ نے اور لوگوں کو دے دیا اور بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ اب آپ اپنی قوم سے جاملیں گے۔جب آپ نے یہ بات سنی تو انصار کو ایک جگہ جمع کیا اور فرمایا کہ اے انصار ! مجھے تمہاری نسبت خبر پہنچی ہے اور تم نے میری نسبت کیا برائی معلوم کی ہے۔کیا