انوار خلافت — Page 38
۳۸ ہوگی کہ وہ دوبارہ دنیا میں آیا ہوگا اور یہ معنی احادیث کی ان پیشگوئیوں کے بھی مطابق ہیں جن میں مسیح کے دوبارہ آنے کی خبر دی گئی تھی اور اس استعارہ کے استعمال کرنے میں یہ حکمت تھی کہ ایک تو اس پیشگوئی کو جو احادیث میں تھی اس طرح حل کردیا کہ یہ ایک استعارہ ہے نہ کہ مسیح کا لوٹنا حقیقت مراد ہے۔دوسرے اس ایک ہی لفظ میں یہ بھی بتا دیا کہ مسیح کی یہ دوسری بعثت اس کی پہلی بعثت سے بہتر اور عمدہ ہوگی۔اور اس طرح ان لوگوں کا اعتراض دور کر دیا جو کہتے ہیں کہ مرزا صاحب مسیح سے افضل کیونکر ہو سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے خود ان لوگوں کا جواب دیا کہ جب دوسری دفعہ ہم نے ایک شخص کو اسی نام سے بھیجا ہے تو اس کو احد بھی بنایا ہے یعنی پہلے مسیح" پر فضیلت بھی دی ہے۔غرض یہ دس ثبوت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ہی احمد تھے اور آپ ہی کی نسبت اس آیت میں خبر دی گئی تھی۔اس جگہ میں ایک اور اعتراض کو بھی دور کر دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ شائد کوئی شخص کہے کہ حضرت صاحب کا ایک شعر ہے۔ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے اس شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب کا نام غلام احمد تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس شعر میں تو حضرت صاحب نے اپنی صفت بیان کی ہے کہ میں جو غلام احمد ہو کر مسیح۔بڑھ کر ہوں۔اس سے رسول کریم صلی یا اپریتم کی عظمت معلوم ہوتی ہے اور اس جگہ اپنا نام بیان نہیں فرمایا اور اگر یہاں نام ہے تو اس شعر کے کیا معنی ہوں گے۔کرامت گرچه بے نام ونشان است بیا بنگر ز غلمان محمد یعنی کرامت گو اس زمانہ میں کہیں نظر نہیں آتی لیکن آتو غلامان محمد سے کرامت دیکھ لے۔کیا اس شعر کے یہ معنی ہیں کہ جن کا نام غلام محمد ہو ان سے کرامت دیکھ لے؟ اس شعر