انوار خلافت — Page 37
۳۷ نہیں آتا۔پس گو ایک صورت تو یہ ہے کہ انجیل سے یہ لفظ تحریف کے زمانہ میں مٹ گیا لیکن ایک دوسری صورت اور بھی ہے اور وہ یہ کہ احمد کا لفظ عربی زبان میں مسیح کی کسی پیشگوئی کا ترجمہ ہے۔اور یہ بات ہم کو قرآن کریم سے صاف طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ مختلف زبانوں میں جو خبریں دی گئی ہیں ان کو عربی زبان کے لباس میں ہی قرآن کریم بیان کرتا ہے۔پس اس اصل کو دل میں رکھ کر جب ہم انجیل کو دیکھتے ہیں تو اس میں دورسولوں کی خبر پاتے ہیں ایک وہ نبی کی خبر اور ایک مسیح کی دوبارہ آمد کی خبر۔جب عربی زبان پر غور کریں تو وہ نبی کا ترجمہ عربی زبان میں احمد نہیں ہوتا نہ کسی محاورہ کا اس میں تعلق ہے لیکن دوبارہ آنے کے متعلق ہمیں ایک محاورہ عربی زبان کا معلوم ہوتا ہے اور وہ العود احمد کا محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ دوبارہ لوٹنا احمد ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان کسی کام کے کرنے کی طرف دوبارہ توجہ کرے تو اسے پہلے کی نسبت اچھا کرتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کی طرف یہ اشارہ فرمایا ہے کہ مَا نَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ أو نُنْسِهَا تَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا (البقره: ۱۰۷) یعنی جب ہم کوئی تعلیم منسوخ کر دیں یا بھلوا دیں تو اس سے بہتر لاتے ہیں یا اس جیسی تو ضرور لاتے ہیں۔اس آیت میں بتایا ہے کہ جب ایک تعلیم کو مٹا کر ہم دوسری لا دیں تو اس میں کوئی حکمت ہی ہوتی ہے اور اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس سے بہتر ہم کوئی اور تعلیم لاویں۔یا کم سے کم ویسی ہی ہو۔پس اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوسری دفعہ کام کرنے میں زیادہ خوبی والی شے مدنظر ہوتی ہے اور اسی بات کو مد نظر رکھ کر عربی زبان کا یہ محاورہ ہو گیا ہے کہ العود احمد پس جب کہ دوبارہ لوٹنے کو احمد کہتے ہیں تو حضرت مسیح کے اس قول کو کہ میں دوبارہ دنیا میں آؤں گا۔عربی زبان میں استعارہ یوں بھی ادا کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ایک رسول کی خبر دی جس کی صفت