انوار خلافت — Page 22
۲۲ کہ اگر فارقلیط کے معنی احمد نہ کئے جائیں تو یہ پیشگوئی آنحضرت سلی سالی تم پر چسپاں نہیں ہوتی بلکہ ہمارے نزدیک بہر حال یہ پیشگوئی آنحضرت سلیم پر چسپاں ہوتی ہے اور جو لوگ فارقلیط کے معنی احمد کر کے اس پیشگوئی کا مصداق رسول کریم صلیہ السلام کو بناتے ہیں تو وہ اپنا پہلو کمزور بناتے ہیں کیونکہ احمد ترجمہ لفظ پیر یکلیو طاس کا کیا جاتا ہے حالانکہ موجودہ یونانی نسخوں میں لفظ پیر یکلیط اس کا ہے پس جبکہ وہ لفظ جس سے احمد کے معنی نکالے جاتے ہیں موجودہ انا جیل میں ہے ہی نہیں۔اور پہلے زمانہ کے متعلق بحث ہے کہ آیا ایسا تھا یا نہیں تو ایسے لفظ پر استدلال کی بنیاد جبکہ اور شواہد اس کے ساتھ نہ ہوں نہایت کمزور بات ہے اور صرف اس قدر کہ دینا کافی نہیں کہ چونکہ انجیل میں تحریف ہوئی ہے اس لئے اس میں یہی لفظ ہوگا جو بعض لوگوں نے خیال کیا ہے کیونکہ اس طرح تو جو شخص چاہے انجیل کی ایک آیت لے کر کہہ سکتا ہے کہ یہ یوں نہیں یوں ہے اور اس کی دلیل وہ یہ دے دے کہ چونکہ انجیلوں میں تحریف ہوئی ہے اس لئے مان لو کہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہی صحیح ہے۔تحریف کا ہونا اور بات ہے اور کسی خاص جگہ تحریف ہونا اور بات ہے۔جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ کس جگہ تحریف ہوئی ہے اپنے پاس سے ایک نئی بات بنا کر انجیل میں داخل نہیں کر سکتے اور نہیں کہہ سکتے کہ اصل میں یہ تھا اور ایسا کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں کیونکہ فارقلیط عبرانی لفظ ہے اور یہ لفظ مرکب ہے فارق اور لیط سے۔فارق کے معنی بھگانے والا اور لیط کے معنی شیطان یا جھوٹ کے ہیں اور ان معنوں کے رو سے آنحضرت مان لیا کہ تم ہی اس پیشگوئی کے مصداق بنتے ہیں کیونکہ آپ ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے روحانی ہتھیاروں سے شیطان کو بھگایا اور جھوٹ کا قلع قمع کیا اور بلند آواز سے دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ منادی کی کہ وَقُلْ جَاءَ الْحَقُ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ( بنی اسرائیل : ۸۲ ) پس ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم خواہ مخواہ ایک یونانی ترجمہ پر جو خود زیر بحث ہے اپنی دلیل کی بناء رکھیں۔اصل