انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 193

انوار خلافت — Page 21

۲۱ آنحضرت سیل یا پیام کومحمد کے نام سے یاد کیا گیا ہے وہ برنباس کی انجیل ہے اور نواب صدیق حسن خاں مرحوم بھو پالوی اپنی تفسیر فتح البیان کی جلد 9 صفحہ ۳۳۵ میں اسمه احمد والی پیشگوئی کے نیچے لکھتے ہیں کہ برنباس کی انجیل میں جوخبر دی گئی ہے اس کا ایک فقرہ یہ ہے لَكِنَّ هَذِهِ الْإِ هَانَةَ وَ الْإِسْتِهْزَاءَ تَبْقِيَانِ إِلى أَن يَجِيْءَ مُحَمَّدَ رَسُولُ اللهِ یعنی حضرت مسیح نے فرمایا کہ میری یہ اہانت اور استہزاء باقی رہیں گے یہاں تک کہ محمد رسول اللہ تشریف لائیں۔یہ حوالہ ہمارے موجودہ اختلافات سے پہلے کا ہے اور نواب صدیق حسن خان صاحب کی قلم سے نکلا ہے۔پس یہ حوالہ نہایت معتبر ہے بہ نسبت ان حوالہ جات کے جواب ہم کو مدنظر رکھ کر گھڑے جاتے ہیں اور اس حوالہ سے ثابت ہے کہ رسول کریم این ٹی ایم کا نام انجیل میں محمد آیا ہے۔پس جبکہ اگر کوئی نام رسول کریم ماننا ہیم کا انجیل میں آیا بھی ہے تو وہ محد نام ہے تو پھر اس آیت کو خلاف منشاء آیت آپ پر چسپاں کرنے کی کیا وجہ ہے اور کیا اس میں رسول کریم ملا ایتم کی ہتک نہیں کی جاتی بلکہ خدا تعالٰی پر الزام نہیں دیا جاتا کہ اول تو انجیل میں اور نام سے خبر دی گئی تھی لیکن قرآن کریم نے وہ نام ہی بدل دیا۔دوم یہ کہ وہ علامتیں بتا ئیں جو آنحضرت صلی ا یہ تم پر چسپاں نہیں ہوتیں۔فارقلیط ہمارے مخالف ہمارے مقابلہ پر ایک اور رنگ بھی اختیار کرتے ہیں اور وہ یہ کہ انجیل میں فارقلیط کی جو خبر دی گئی ہے اس سے اسمه احمد کی پیشگوئی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فارقلیط سے احمد نام ثابت ہوتا ہے اور جبکہ تم اسمه احمد کی پیشگوئی رسول کریم پر چسپاں نہیں کرتے تو فارقلیط کی پیشگوئی آپ پر چسپاں نہ ہوگی۔اور وہ بھی مسیح موعود پر چسپاں ہوگی۔اور اگر ایسا ہوگا تو آنحضرت کے متعلق انجیل میں کونسی پیشگوئی رہ جائے گی۔سواس کا جواب یہ ہے کہ فارقلیط کی پیشگوئی آنحضرت سیلانی ایم کے متعلق ہی ہے اور ہمارے نزدیک آپ ہی اس پیشگوئی کے مصداق ہیں۔لیکن ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے