انوار خلافت — Page 188
۱۸۸ باب ۲۰ آیت ۱۸ و ۱۹ میں اس طرح لکھا ہے کہ اور سب لوگوں نے دیکھا کہ بادل گرجے۔بجلیاں چمکیں۔قرنائی کی آواز ہوئی۔پہاڑ سے دھواں اٹھا۔اور سب لوگوں نے جب سیہ دیکھا تو وہ ہٹے اور دور جا کھڑے رہے۔تب انہوں نے موسیٰ سے کہا کہ تو ہی ہم سے بول اور ہم سنیں۔لیکن خدا ہم سے نہ بولے۔کہیں ہم مر نہ جائیں۔“ تو خدا تعالیٰ نے اس کی سزا ان کو یہ دی کہ میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پاکروں گا۔اور اپنا کلام اس کے مونہہ میں ڈالوں گا۔اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا۔وہ سب ان سے کہے گا۔(استثناء باب ۱۸ آیت (۱۸) یعنی اب ان میں سے کسی کو نبی نہ بناؤں گا اور ان کے ساتھ ہم کلام نہ ہوں گا۔کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ ” خدا ہم سے نہ بولے بلکہ اس طرح کروں گا کہ بنی اسماعیل جو ان کے بھائی ہیں۔ان میں نبی بھیجوں گا۔جو تجھ (موسی) جیسا ہوگا۔یہود پہلے تو ڈر گئے تھے اور کہ دیا تھا کہ ہم سے خدا نہ بولے۔لیکن جب ان کو یہ سزاملی کہ ان میں سے صاحب شریعت نبی ہونے بند کئے گئے اور نبوت کا فیض بنی اسماعیل کی طرف چلا گیا۔تو انہیں لالچ پیدا ہوئی کہ اب اگر غیر سے نبی پیدا ہوئے تو ہماری ذلت ہوگی اس لئے انہوں نے تحریف کر دی۔اور اس طرح بنا دیا کہ خداوند تیرا خدا تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی بر پا کرے گا“۔استثناء آیت ۱۵۔یعنی ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے“ کی بجائے ” تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے کر دیا گیا۔لیکن جس نے یہ تحریف کی اسے یہ یاد نہ رہا کہ ۱۵ آیت میں تو میں نے تحریف کر دی ہے لیکن ۱۸ آیت اسی طرح کی ہے۔پس اگر تمام مذاہب کی کتابوں میں لکھا ہوتا کہ ایک نبی اسلام میں آئے گا اس کو مان لینا تو ضرور ہر ایک مذہب والے حسد اور دشمنی کی وجہ سے اس میں ایسی تحریف کر دیتے کہ جس سے کچھ بھی برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء