انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 193

انوار خلافت — Page 182

۱۸۲ لئے آپ بھی نبی ہیں۔خدا تعالیٰ نے آپ کو محمد کہا ہے اور محمد ایک نبی کا نام ہے اس لئے آپ بھی نبی ہیں۔تو گویا پہلے انبیاء کے نام لے کر بتانے اور مثیل نہ کہنے کی یہی وجہ ہے کہ کیونکہ مثیل کہنے میں یہ نقص ہے کہ یہ کبھی بڑا ہوتا ہے اور کبھی چھوٹا اور کبھی برابر کا۔اگر مثیل کہا جاتا تو ہمارے مخالف تیسری شق کو لے لیتے لیکن خدا تعالیٰ نے اس بات کو پہلے ہی دور کر دیا تا کہ ایسا کرنے کا کسی کے لئے موقعہ ہی نہ رہے۔دیکھو آنحضرت مسی اینم کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ | رسُولًا (المزمل: ۱۶) حالانکہ آنحضرت سلمان پیام حضرت موسی سے بہت بڑا درجہ رکھتے تھے تو مثیل کبھی عین ہوتا ہے کبھی اعلیٰ اور کبھی ادنی۔تو خدا تعالیٰ نے بجائے اس کے کہ ایک ایسا لفظ رکھتا جو تین پہلو رکھتا تھا جس کا ادنیٰ درجہ لے کر حضرت مسیح موعود کی ہتک کی جاتی ایسا لفظ رکھ دیا کہ جس سے کوئی اور پہلو نکل ہی نہیں سکتا۔یعنی خدا تعالیٰ نے اس آنے والے نبی کو مثیل بدھ نہیں کہا بلکہ بدھ ہی کہا ہے۔مثیل کرشن نہیں کہا بلکہ کرشن ہی کہا ہے۔مثیل مسیح نہیں کہا بلکہ مسیح ہی کہا ہے۔اور اسی طرح وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا (الجمعہ : ۴) میں مثیل محمد قرار نہیں دیا۔بلکہ محمد مہی قرار دیا ہے تا کہ آپ کے درجہ کے کم کرنے والے آپ کے کمالات کا انکار نہ کر بیٹھیں۔غرض یہ ایک بڑی حکمت تھی جس کے لئے مثیل نہیں کہا گیا بلکہ اصل نبی کا نام دیا گیا۔دوسری عظیم الشان حکمت علم یہ ہے کہ کوئی لفظ جو کسی کے متعلق بولا جاتا ہے وہ مثال دینے کے لئے ہوتا ہے۔مثلاً یہ کہیں کہ فلاں شیر ہے یا یہ کہیں کہ فلاں شیر کی طرح ہے تو ان دونوں فقروں میں بڑا فرق ہے۔کیونکہ مثال کے طور پر لفظ بولنے سے اس طرح مطلب واضح نہیں ہوتا۔جس طرح مجازاً