انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 193

انوار خلافت — Page 178

12A ہو، بڑا فلسفی بھی ہو اور بڑا طبیب بھی ہو۔اور جب ایسا ہوسکتا ہے تو ہم ایسے شخص کو اس کی چاروں صفات کی وجہ سے حاتم ، رستم ، افلاطون اور جالینوس کہہ سکتے ہیں۔حالانکہ جب کسی کو یہ نام دیئے جائیں گے تو ان ناموں کے اصلی مصداق دنیا میں نہیں آجائیں گے۔بلکہ یہی کہا جائے گا کہ ایک شخص میں ان چار آدمیوں کی صفات اکٹھی ہوگئی ہیں۔پھر ذرا شاعروں کے قصیدوں کو پڑھو تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ تو بہت سے انسانوں کے نام اپنے محمد وحوں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔سکند ربھی بناتے ہیں، رستم بھی بناتے ہیں ، افلاطون بھی بناتے ہیں ، حاتم بھی بناتے ہیں پس اس میں کون سی مشکل ہے کہ ایک ہی انسان کو پہلے نبیوں کے نام دیئے جائیں۔اگر ہم کسی کو حاتم کہتے ہیں تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہی حاتم جو مر چکا ہے دوبارہ آگیا ہے اس کی روح تناسخ کے طور پر اس میں آگئی ہے بلکہ یہ مراد ہوتی ہے کہ وہ بھی ایک بڑا سخی تھا اور یہ بھی ایک بڑا سخی ہے۔تو ایک آدمی میں بہت سی صفات اکٹھی ہو سکتی ہیں اور اس میں کوئی عجیب اور انوکھی بات نہیں ہے۔دیکھو آنحضرت سلینا ہی تم کو خدا تعالیٰ نے ان تمام صفات حسنہ سے جو انسانوں میں پائی جاتی ہیں متصف فرمایا ہے۔اس لئے آپ ابراہیم بھی ہیں ، نوش بھی ہیں، موسیٰ بھی ہیں، عیسی بھی ہیں، اسماعیل بھی ہیں، اسحاق بھی ہیں۔اور تمام انبیاء کے جامع ہیں۔اب بتاؤ۔آنحضرت صلاله ای لیم جب ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے جامع تھے جیسا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے تو آپ میں سب کے نام اکٹھے تھے یا نہیں۔اگر نہیں تو یہ کہنا جھوٹ ہے کہ آپ سب نبیوں کے جامع تھے لیکن اگر جامع تھے۔یعنی آدم کے کمالات آپ میں پائے جاتے تھے تو آپ آدم تھے۔اگر نوح کے کمالات آپ میں پائے جاتے تھے تو آپ نوح تھے۔اگر ابراہیم کے کمالات آپ میں پائے جاتے تھے تو آپ ابراہیم تھے۔پس اگر کوئی یہ تسلیم کرتا ہے کہ آپ سب انبیاء کے جامع تھے۔اور سب انبیاء کی خوبیاں آپ میں تھیں تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے