انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 193

انوار خلافت — Page 173

۱۷۳ قوموں کو معلوم ہوگا اور وہ غور کریں گی اس آنے والے کو جو سب کا قائم مقام ہو کر آیا ہے۔مان لیں گی کیونکہ یہ کوئی دوسرا نہیں بلکہ ان کا اپنا ہی ہے۔کسی دوسرے کو ماننے سے عار آیا کرتی ہے۔لیکن جب ہندوؤں کو کرشن ، بدھوں کو بدھ، مسیحیوں کو مسیح اور مسلمانوں کو آنحضرت سان می ایستم کہیں گے کہ ہمیں مان لو تو پھر کسی کو ان کے ماننے میں کوئی عذر نہ ہوگا۔اور عذر ہو ہی کیا سکتا ہے جبکہ وہ اپنے مانے ہوئے نبی کو ہی دوبارہ مانیں گے۔اور جب یہ تو میں مان لیں گی تو اور سب انہی میں آجائیں گی کیونکہ باقی سب مذاہب انہی مذاہب کی شاخیں ہیں۔میں نے ان چار مذاہب کے نام اس لئے لئے ہیں کہ یہ بڑے بڑے مذہب ہیں اور ان کے ماننے والی بڑی بڑی جماعتیں ہیں ورنہ ہر ایک مذہب میں کسی نہ کسی نبی کے آنے کی پیشگوئی موجود ہے۔غرض خدا تعالیٰ نے تمام دنیا پر ایک ہی مذہب قائم کرنے کی یہ تدبیر کی۔لیکن خدا کی یہ سنت نہیں ہے کہ مذاہب کو بالکل مٹا کر اور نیست و نابود کر کے ایک ہی مذہب کو رہنے دے۔اسی سنت کے مطابق اب بھی دیگر مذاہب کچھ کچھ رہیں گے لیکن بہت ہی قلیل تعداد میں ان کے پیر وہوں گے جو گویا نہ ہونے کے ہی برا بر ہوں گے۔ایک اعتراض اور اس کا جواب اس جگہ میں ایک اعتراض کا جو عام طور پر احمدیوں پر کیا جاتا ہے اور جو میری پہلی تقریر پر بھی پڑسکتا ہے ازالہ کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ مانا کہ تمام مذاہب کے جمع کرنے کے لئے یہ ایک عمدہ تدبیر ہے کہ سب مذاہب کے نبیوں کی دوبارہ آمد کی خبر دی جائے اور پھر ان سب کو ایک شخص کے وجود میں ظاہر کیا جائے لیکن یہ ہو کیونکر سکتا ہے کہ ایک ہی شخص کرشن بھی ہو مسیح بھی ہو محمد بھی ہو اور اسی طرح اور نبیوں کا بھی مظہر ہو۔اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ چار ناموں والے ایک شخص کا ہونا کچھ بھی مشکل نہیں۔میں نے جلسہ کے موقعہ پر اپنی ایک تقریر میں بتایا ہے کہ آنحضرت سالی سیستم فرماتے