انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 193

انوار خلافت — Page 169

۱۶۹ مسیح نے کہا کہ اب میں جاتا ہوں لیکن اس وقت دوبارہ آؤں گا جب کہ تو میں ایک دوسرے پر چڑھیں گی اور دنیا میں فساد پھیل جائے گا۔تب میں آکر صلح کراؤں گا۔اسی طرح خدا نے آنحضرت سالی یا پیام کے مونہہ سے یہ کہلایا کہ واخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعه : ۴) یہ رسول آخری زمانہ میں بھی آئے گا اور اس وقت کے لوگوں کو پہلوں کی طرح بنا دے گا۔غرض تمام مذاہب کے بانیوں کی طرف سے یہ کہلا دیا گیا تھا کہ ہم دوبارہ آئیں گے۔اس لئے ان کے پیروؤں نے ان کے دوبارہ آنے کی توقع رکھی۔حضرت کرشن کے پیر و اس بات کے منتظر تھے کہ کرشن آئے گا۔حضرت بدھ کے پیرو اس بات کے منتظر تھے کہ بدھ آئے گا۔حضرت مسیح کے پیرو اس بات کے منتظر تھے کہ مسیح آئے گا۔اور آنحضرت صلی یا الہام کے پیرواس بات کے لئے چشم براہ تھے کہ محمد مہدی آئے گا۔اور سب سے یہ آپس کے اختلاف اور لڑائی جھگڑوں کے بند کرنے اور ایک مذہب پر قائم کرنے کے لئے کہلایا جارہا تھا۔ہندوہ مسلمان ، عیسائی اور یہودی سب آپس میں جھگڑتے تھے اور ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ دوسرے کو برباد کر دے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اس لڑائی جھگڑے کو دور کرنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ہر ایک قوم سے ایک ایک پہنچ مقرر کر دیا اور ہر ایک کو فرما دیا کہ تمہارا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔مولانا روم اپنی مثنوی میں ایک قصہ لکھتے ہیں کہ چار آدمی کہیں جارہے تھے ایک امیر نے انہیں کچھ پیسے دیئے ان میں سے ایک نے کہا کہ ہم انگور لے کر کھائیں گے۔دوسرے نے کہا انگور نہیں عرب لیں گے۔تیسرے نے کہا کہ نہیں عنب بھی نہیں داکھ لیں گے۔چوتھے نے بھی ان تینوں کے خلاف اپنی زبان میں انگور کا نام لے کر کہا کہ نہیں فلاں چیز لیں گے۔اس طرح وہ چاروں ایک دوسرے کی بات نہ مانے اور خوب آپس میں لڑے۔ایک شخص پاس سے گذر رہا تھا اس نے کہا کیا بات ہے مجھے بتاؤ میں فیصلہ کرتا ہوں۔ان میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی بات بتائی اس نے کہا لاؤ میں سب کو مطلوبہ ھے