انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 193

انوار خلافت — Page 152

۱۵۲ پیر مار کر آپ کے آگے سے قرآن کریم کو پرے پھینک دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شقی دین سے کیا تعلق رکھتے تھے۔آپ کے قتل کرنے کے بعد ایک شور پڑ گیا اور باغیوں نے اعلان کر دیا کہ آپ کے گھر میں جو کچھ ہو لوٹ لو۔چنانچہ آپ کا سب مال واسباب لوٹ لیا گیا۔لیکن اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ آپ کے گھر کے لوٹنے کے بعد وہ لوگ بیت المال کی طرف گئے اور خزانہ میں جس قدر روپیہ تھا سب لوٹ لیا جس سے ان لوگوں کی اصل نیت معلوم ہوتی ہے یا تو یہ لوگ حضرت عثمان پر الزام لگاتے تھے اور ان کے معزول کرنے کی یہی وجہ بتاتے تھے کہ وہ خزانہ کے روپیہ کو بری طرح استعمال کرتے ہیں اور اپنے رشتہ داروں کو دے دیتے ہیں۔یا خود سرکاری خزانہ کے قفل تو ڑ کر سب روپیہ لوٹ لیا اس سے معلوم ہو گیا کہ ان کی اصل غرض دنیا تھی۔اور حضرت عثمان کا مقابلہ محض اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لئے تھا تا کہ جو چاہیں کریں اور کوئی شخص روک نہ ہو۔جب حضرت عثمان شہید ہوئے تو اسلامی لشکر جو شام وبصرہ اور کوفہ سے آتے تھے ایک دن کے فاصلہ پر تھے ان کو جب یہ خبر ملی تو وہ وہیں سے واپس لوٹ گئے تا ان کے جانے کی وجہ سے مدینہ میں کشت وخون نہ ہو اور خلافت کا معاملہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیا۔ان باغیوں نے حضرت عثمان کو شہید کرنے اور ان کا مال لوٹنے پر بس نہیں کی بلکہ ان کی لاش کو بھی پاؤں میں روندا اور دفن نہ کرنے دیا۔آخر جب خطرہ ہوا کہ زیادہ پڑے رہنے سے جسم میں تغیر نہ پیدا ہو جائے۔تو بعض صحابہ نے رات کے وقت پوشیدہ آپ کو دفن کر دیا۔ایک دو دن تو خوب لوٹ مار کا بازار گرم رہا۔لیکن جب جوش ٹھنڈا ہوا۔تو ان باغیوں کو پھر اپنے انجام کا فکر ہوا۔اور ڈرے کہ اب کیا ہوگا۔چنانچہ بعض نے تو یہ سمجھ کر کہ حضرت معاویہ ایک زبر دست آدمی ہیں اور ضرور اس قتل کا بدلہ لیں گے شام کا رخ کیا اور وہاں جا کر خود ہی واویلا کرنا شروع کر دیا کہ حضرت عثمان شہید ہو گئے اور کوئی ان کا قصاص نہیں لیتا۔کچھ