انوار خلافت — Page 149
۱۴۹ کہ میرے ننگ و ناموس پر حرف آئے۔ان باغیوں نے جب دیکھا کہ ان کی طرف سے فساد کی کوئی راہ نہیں نکلتی تو آپ کے گھر پر پتھر مارنے شروع کئے تا کوئی ناراض ہو کر ان پر بھی حملہ کر دے تو ان کو عذ رمل جائے کہ ہم پر حملہ کیا گیا تھا اس لئے ہم نے بھی حملہ کیا۔پتھروں کے پڑنے پر حضرت عثمان نے آواز دی کہ اے لوگو! خدا سے ڈرود شمن تو تم میرے ہو۔اور اس گھر میں تو میرے سوا اور لوگ بھی ہیں ان کو کیوں تکلیف دیتے ہو۔ان بد بختوں نے جواب دیا کہ ہم پتھر نہیں مارتے یہ پتھر خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہارے اعمال کے بدلے میں پڑ رہے ہیں۔آپ نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے تمہارے پتھر تو کبھی ہمیں لگتے ہیں اور کبھی نہیں لگتے اور خدا تعالیٰ کے پتھر تو خالی نہیں جایا کرتے وہ تو نشانہ پر ٹھیک بیٹھتے ہیں۔فساد کو اس قدر بڑھتا ہوا دیکھ کر حضرت عثمان نے چاہا کہ مدینہ کے لوگوں کو بیچ میں سے ہٹاؤں تا کہ میرے ساتھ یہ بھی تکلیف میں نہ پڑیں چنانچہ آپ نے حکم دیا کہ اے اہل مدینہ ! میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ اپنے گھروں میں بیٹھ رہو اور میرے مکان کے پاس نہ آیا کرو اور میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ میری اس بات کو مان لو۔اس پر وہ لوگ بادل نخواستہ اپنے گھروں کی طرف چلے گئے لیکن اس کے بعد چند نو جوانوں کو پہرہ کے لئے انہوں نے مقرر کر دیا۔حضرت عثمان نے جب صحابہؓ کی اس محبت کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ اگر کوئی فساد ہوا تو صحابہ اور اہل مدینہ اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈال دیں گے لیکن خاموش نہ رہیں گے تو انہوں نے اعلان کیا کہ حج کا موسم ہے لوگوں کو حسب معمول حج کے لئے جانا چاہئے اور عبداللہ بن عباس کو جو ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آپ کا دروازہ نہیں چھوڑا تھا۔فرمایا کہ تم کو میں حج کا امیر مقرر کرتا ہوں۔انہوں نے کہا اے امیر المؤمنین ! خدا کی قسم یہ جہاد مجھے حج سے بہت زیادہ پیارا ہے مگر آپ نے ان کو مجبور کیا کہ فوراً چلے جائیں اور حج کا انتظام کریں۔اس کے بعد اپنی وصیت لکھ کر حضرت زبیر کے پاس