انوار خلافت — Page 139
۱۳۹ جواب دیا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم حضرت عثمان سے وہ باتیں دریافت کریں گے جو پہلے ہم نے ان کے خلاف لوگوں کے دلوں میں بٹھائی ہوئی ہیں۔پھر ہم واپس جا کر تمام ملکوں میں مشہور کریں گے کہ ان باتوں کے متعلق ہم نے (حضرت) عثمان سے ذکر کیا لیکن اس نے ان کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور تو بہ نہیں کی۔اس طرح لوگوں کے دل ان کی طرف سے بالکل پھیر کر ہم حج کے بہانہ سے پھر لوٹیں گے اور آکر محاصرہ کریں گے۔اور عثمان سے خلافت چھوڑ دینے کا مطالبہ کریں گے۔اگر اس نے انکار کر دیا تو اسے قتل کر دیں گے۔ان دونوں مخبروں نے ان سب باتوں کی اطلاع آکر حضرت عثمان کو دی تو آپ ہنسے اور دعا کی کہ یا اللہ ان لوگوں پر رحم کر۔اگر تو ان پر رحم نہ کرے تو یہ بد بخت ہو جائیں گے۔پھر آپ نے کوفیوں اور بصریوں کو بلوایا اور مسجد میں نماز کے وقت جمع کیا اور آپ منبر پر چڑھ گئے اور آپ کے ارد گر دوہ مفسد بیٹھ گئے۔جب صحابہ کو علم ہوا تو سب مسجد میں آکر جمع ہو گئے اور ان مفسدوں کے گرد حلقہ کر لیا۔پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی۔اور ان لوگوں کا حال سنایا اور ان دونوں آدمیوں نے جو حال دریافت کرنے گئے تھے سب واقعہ کا ذکر کیا۔اس پر صحابہ نے بالاتفاق بآواز بلند پکار کر کہا کہ ان کوقتل کر دو۔کیونکہ رسول اللہ مایا اسلام نے فرمایا ہے کہ جو کوئی اپنی یا کسی اور کی خلافت کے لئے لوگوں کو بلائے اور اس وقت لوگوں میں ایک امام موجود ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی اور تم ایسے شخص کو قتل کر دو۔اور حضرت عمر کا بھی یہی فتویٰ ہے اس پر حضرت عثمان نے فرمایا کہ انہیں ہم معاف کریں گے اور اس طرح ان کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کریں گے۔پھر فرمایا کہ یہ لوگ بعض باتیں بیان کرتے ہیں وہ ایسی باتیں ہیں کہ تم بھی جانتے ہو لیکن فرق یہ ہے کہ یہ ان کے ذریعہ سے لوگوں کو میرے خلاف بھڑ کا نا چاہتے ہیں۔مثلاً کہتے ہیں کہ اس نے سفر میں نماز قصر نہیں کی حالانکہ پہلے ایسا نہ ہوتا تھا۔سنو میں نے نماز ایسے شہر میں پوری پڑھی ہے جس میں کہ میری بیوی تھی۔کیا اسی طرح نہیں ہوا۔سب صحابہ نے کہا کہ ہاں یہی بات ہے۔پھر فرمایا یہ لوگ