انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 193

انوار خلافت — Page 110

11۔چاہتے ہیں۔آپ لوگ اس مضمون کو غور سے سنیں اس کا کچھ حصہ علمی اور تاریخی ہے اس لئے ممکن ہے کہ بعض کو مشکل معلوم ہو۔لیکن یہ وہ بات ہے۔اور میں کامل یقین سے کہتا ہوں۔یہ وہ بات ہے جو خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تو بیان فرمائی ہے لیکن آج تک کسی نے اسے قرآن شریف سے سیکھ کر بیان نہیں کیا۔مجھے خدا تعالیٰ نے سکھائی ہے اور اس بات کا موقع دیا ہے کہ آپ لوگوں کوسناؤں۔پس جو شخص اسے سنے گا اور پھر اس پر عمل کرے گا وہ کامیاب اور بامراد ہو جائے گا۔اور جو نہیں سنے گا اور عمل نہیں کرے گا وہ یادر کھے کہ ایسے ایسے فتنے آنے والے ہیں کہ جن کے ساتھ یہ فتنہ جو اس وقت برپا ہوا ہے کچھ مقابلہ ہی نہیں کر سکتا۔کیا یہ فتنہ تم کو یاد نہیں ہے اور تم نے نہیں دیکھا کہ اس کے بانیوں نے کس قدر زور سے کیا مگر انہیں کیا حاصل ہوا کچھ بھی نہیں۔آج یہ نظارہ دیکھ لو اور لاہور جا کر بھی دیکھ لو۔باوجود اس کے کہ بیعت کے وقت وہ زیادہ تھے اور ہم تھوڑے لیکن خدا تعالیٰ نے ظاہر کر دیا ہے کہ ان کی کچھ بھی پیش نہیں گئی پس یہ وہ فتنہ نہیں ہے جو جماعتوں کی تباہی اور ہلاکت کا موجب ہوا کرتا ہے۔وہ وہ فتنہ ہوتا ہے جو سمندر کی لہروں کی طرح آتا ہے اور خس و خاشاک کی طرح قوموں کو بہا کر لے جاتا ہے۔پس اس فتنہ سے خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے بغیر کوئی بچ نہیں سکتا۔ہم سے پہلے بہت سی جماعتوں نے اس کے تلخ تجربے کئے ہیں۔پس مبارک ہے وہ جو ان کے تجربوں سے فائدہ اٹھائے اور افسوس ہے اس پر جس نے پہلوں کے تجربہ سے فائدہ نہ اٹھایا اور چاہا کہ خود تجربہ کرے۔دیکھو سنکھیا ایک زہر ہے اور اس کو ہر ایک زہر جانتا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ بہت سے لوگوں نے جب اس کو کھایا تو مر گئے۔اس کے متعلق اب کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں اسے اس وقت تک زہر نہیں کہوں گا جب تک کہ خود تجربہ کر کے نہ دیکھ لوں۔لیکن کیسا افسوس ہوگا اس شخص پر جو خود تجربہ سنکھیا کھائے کیونکہ اس کا انجام سوائے اس کے کچھ نہیں ہوگا کہ