انوار خلافت — Page 108
I+A ہے بلکہ ایک بشری کمزوری کے بدنتائج سے بچنے کی آپ گوراہ بتائی گئی ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ آپ کے وقت کثرت سے لوگ ایمان لے آئے مگر ابتلاؤں اور فتنوں کے وقت ان کا ایمان خراب نہ ہوا۔اور وہ اس نعمت سے محروم نہ ہوئے۔چنانچہ آنحضرت کے زمانہ میں جو لوگ ایمان لائے تھے آپ کے بعد گوان میں سے بھی کچھ مرتد ہو گئے۔مگر جھٹ پٹ ہی واپس آگئے اور ان فتنہ وفسادوں میں شامل نہ ہوئے جو اسلام کو تباہ کرنے کے لئے شریروں اور مفسدوں نے بر پاکئے تھے۔چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جو بہت بڑا فساد ہوا اس میں عراق، مصر، کوفہ اور بصرہ کے لوگ تو شامل ہو گئے جو آنحضرت سلیم کی وفات کے بعد ایمان لائے تھے لیکن یمن، حجاز اور نجد کے لوگ شامل نہ ہوئے۔یہ وہ ملک تھے جو آنحضرت ملا لیا پی ایم کے وقت میں فتح ہوئے تھے۔جانتے ہو اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ خفیہ منصوبے جو مسلمانوں کی تباہی کا موجب ہوئے ان میں وہ ممالک تو شامل ہو گئے جو آپ کی وفات کے بعد فتح ہوئے۔مگر وہ ملک شامل نہ ہوئے جو آپ کے زمانہ میں فتح ہوئے تھے۔اس کی یہی وجہ ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان ملکوں کے لوگوں کی جو آپ کے زمانہ میں اسلام لائے تھے برائیاں اور بدیاں دور کر دی تھیں۔لوگ تو کہتے ہیں کہ امیر معاویہ کا زور اور طاقت تھی کہ شام کے لوگ اس فتنہ میں شامل نہ ہوئے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ بھی آنحضرت سیل یا پیام ہی کی کرامت تھی کہ وہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف نہیں اٹھے تھے۔کیونکہ گو یہ ملک آپ کے زمانہ میں فتح نہ ہوا۔لیکن آپ نے اس پر بھی چڑھائی کی تھی۔جس کا ذکر قرآن شریف کی سورہ تو بہ میں ان تین صحابہ کا ذکر کرتے ہوئے جو اس سفر میں شامل نہ ہوئے تھے آیا ہے۔پس شام کا اس فتنہ میں شامل نہ ہونا امیر معاویہ کی دانائی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس لئے تھا کہ وہاں اسلام کا پیچ رسول کریم صلی یہ نام کے وقت میں بویا گیا۔اور اس سرزمین میں آپ نے اپنا قدم مبارک ڈالا