انوار خلافت — Page 107
۱۰۷ بہت سے لڑکے ہوتے ہیں اور ایک استاد وہاں کے لڑکوں کی تعلیمی حالت بہت کمزور ہوتی ہے۔کیونکہ زیادہ لڑکوں کی وجہ سے استاد ہر ایک کی طرف پوری پوری توجہ نہیں کر سکتا۔تو چونکہ کے وقت لاکھوں انسان مسلمان ہو کر اسلام میں داخل ہوتے تھے۔اس لئے آنحضرت سلی یا اسلام کو یہ خطرہ دامن گیر ہوا کہ مسلمان تعلیم میں ناقص نہ رہ جائیں۔خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کے متعلق یہ گر بتا دیا کہ خدا کے آگے گر جاؤ۔اور اسی کو کہو کہ آپ ہی اس کام کو سنبھال لے۔میری طاقت سے تو اس کا سنبھالنا باہر ہے۔پس آنحضرت سال یا اسلام کے متعلق استغفار کا لفظ اسی لئے استعمال کیا گیا ہے کہ آپ کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جائے کہ اسلام میں کثرت سے داخل ہونے والے لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لئے آپ خدا تعالیٰ سے دعا کریں اور التجا کریں۔کہ اب لوگوں کے کثرت سے آنے سے جو بدنتائج نکلیں گے ان سے آپ ہی بچائیے اور ان کو خود ہی دور کر دیجئے اور آپ کا لاکھوں انسانوں کو ایک ہی وقت میں پوری تعلیم نہ دے سکنا کوئی گناہ نہیں بلکہ بشریت کا تقاضا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کی نسبت ذنب کا لفظ تو استعمال ہوا ہے۔لیکن جناح کا لفظ کبھی استعمال نہیں ہوا۔گناہ اسے کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت اور قوت کے باوجود اس کے حکم کی فرمانبرداری نہ کی جائے۔اور وہ بات جس کی خدا تعالیٰ کی طرف سے طاقت ہی نہ دی جائے اس کا نہ کر سکنا گناہ نہیں ہوتا بلکہ وہ بشری کمزوری کہلاتی ہے۔مثلاً ایک شخص بیمار ہو جاتا ہے تو یہ اس کا گناہ نہیں بلکہ ایک کمزوری ہے جو بشریت کی وجہ سے اسے لاحق ہے۔تو رسول کریم ملی ایام کا یہ گناہ نہ تھا کہ آپ اس قدر زیادہ لوگوں کو پڑھا نہ سکتے تھے بلکہ خدا تعالیٰ نے ہی آپ کو ایسا بنا یا تھا۔اور آپ کے ساتھ یہ ایسی بات لگی ہوئی تھی۔جو آپ کی طاقت سے بالا تھی۔اس لئے آپ کو بتایا گیا کہ آپ خدا تعالیٰ کے حضور کثرت طلباء کی وجہ سے جو نقص تعلیم میں ہونا تھا اس کے دور کرنے کے لئے دعا کریں۔پس ان تمام آیات سے پتہ لگتا ہے کہ ان میں رسول کریم صلی یا پی ایم کے گناہ کا اظہار نہیں