انوار خلافت — Page 67
۶۷ نہیں کر سکتے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم حضرت مرزا صاحب کو نبی کہیں گے تو لوگ ہماری مخالفت کریں گے اور ہمیں دکھ دیں گے۔میں کہتا ہوں حضرت مرزا صاحب کو نبی نہ کہنے میں آنحضرت میایی پیام کی سخت ہتک ہے جس کو ہم کسی مخالفت کی وجہ سے برداشت نہیں کر سکتے۔وہ تو مخالفت سے ڈراتے ہیں لیکن اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت مصلای ایام کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے کذاب ہے آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔کیونکہ آنحضرت سلیل پیام کی شان ہی ایسی ہے کہ آپ کے ذریعہ سے نبوت حاصل ہو سکتی ہے۔آپ نے رحمتہ للعالمین ہو کر رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں اس لئے اب ایک انسان ایسا نبی ہوسکتا ہے جو کئی پہلے انبیاء سے بھی بڑا ہو مگر اس صورت میں کہ آنحضرت سلائی یہ ان کا غلام ہو۔ہمارے لئے کتنی عزت کی بات ہے کہ قیامت کے دن تمام نبی اپنی اپنی امتوں کو لے کر کھڑے ہوں گے اور ہم کہیں گے کہ ہمارے نبی کی وہ شان ہے کہ آپ کا غلام ہی ہمارا نبی ہے۔لیکن مسلمان کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی مسیح آئے گا جو بنی اسرائیل کے لئے آیا تھا۔اگر وہی آیا تو یہ قیامت کے دن کیا کہیں گے کہ ہمارے نبی آنحضرت سلائی ستم کی وہ شان ہے کہ آپ کی امت کی اصلاح کے لئے بنی اسرائیل کا ہی ایک نبی آیا تھا۔اس بات کو سوچو اور غور کرو کہ آنحضرت سلیم کی ہتک تم کر رہے ہو یا ہم۔آنحضرت سلی یا اینم کی اسی میں عزت ہے کہ آپ کی امت میں سے کسی کو نبی کا درجہ ملے نہ کہ بنی اسرائیل کا کوئی نبی آپ کی امت کی اصلاح کے لئے آئے۔حضرت مسیح موعود نے اسی لئے فرمایا کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے یعنی ابن مریم کا تم کیوں انتظار کر رہے ہو مجھے دیکھو کہ میں احمد کا غلام ہو کر اس سے بڑھ کر ہوں۔کوئی کہے کہ اس شعر میں مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میں غلام احمد ہوں اس لئے