انوار خلافت — Page 58
۵۸ کرنے والی ہوں اور صداقت کے ایسے معیار بناتے ہیں جنہیں کوئی دانا انسان قبول نہیں کرسکتا۔اور جو خدا تعالیٰ کی سنت سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں۔کیا ایک مسیحی اس معیار کو سن کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ رسول کریم ملی پیام سے پہلے جس قدر نبی گذرے ہیں کسی کا نام محمد وزن پر نہیں ہوا۔اس لئے آپ نبی نہیں ہیں اور کیا ایسا دعویٰ کرنے والا مجنون نہیں کہلائے گا۔پھر حضرت مسیح موعود کی نبوت پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جس کے نام کا پہلے کوئی آدمی نہ گزرا ہو۔چونکہ آپ کا نام غلام احمد تھا۔اور اس نام کے آپ سے پہلے بہت سے لوگ ہو گزرے ہیں۔اس لئے آپ نبی نہیں ہو سکتے۔گویا ان لوگوں کے نزدیک چونکہ آنحضرت سلیم سے پہلے کوئی شخص آپ کا ہم نام نہیں گزرا۔اس لئے آپ نبی ہیں اور اگر یہ غلط ثابت ہو جائے تو پھر آپ نبی نہیں (نعوذ باللہ ) اسی طرح حضرت مسیح سے پہلے چونکہ یسوع نام کا جو آپ کا نام تھا کوئی شخص نہیں گزرا اس لئے آپ نبی ہیں۔اور اگر یہ غلط ثابت ہو جائے تو پھر آپ نبی نہیں۔اس بات کا اگر ان سے ثبوت پوچھیں کہ تم نے یہ دلیل کہاں سے لی ہے تو کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں جو حضرت یحیی" کی نسبت لکھا ہے کہ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا ( مریم : ۸) اول تو جو معنی کر کے وہ استدلال کرتے ہیں وہ معنی ہی ہمارے نزدیک قابل تسلیم نہیں لیکن اگر انہی کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو بات کسی نبی کی نسبت قرآن کریم میں مذکور ہو وہ نبوت کی شرط ہوتی ہے اور اگر یہ تسلیم کیا گیا تو نہایت مشکل پیش آئے گی۔کیونکہ ایسی باتیں نکلیں گی جو قرآن کریم میں بعض انبیاء کے متعلق بیان ہیں اور دوسروں کی نسبت بیان نہیں اور نہ ان میں وہ پائی جاتی تھیں تو اس سے ثابت ہوگا کہ وہ نبی ہی نہ تھے مثلاً حضرت داؤد کی نسبت آتا ہے ان کو ہم نے زرہ بنانی سکھائی تھی۔تو زرہ بنانی بھی شرائط نبوت میں داخل کرنی پڑے گی۔اور چونکہ ہمارے نبی کریم صا تم یہ فن نہ جانتے تھے اس لئے آپ کی نبوت گو یا باطل ہو گئی۔نعوذ باللہ من ذالک۔پس یہ اصل ہی باطل