انوار خلافت — Page 143
۱۴۳ اجازت نہ دیتے تھے سوائے اوقات نماز کے کہ اس وقت بھی عین نماز کے وقت جمع ہونے دیتے اور پھر پراگندہ کر دیتے اس شرارت کو دیکھ کر بعض صحابہ ان لوگوں کے پاس گئے اور کہا کہ تم نے یہ کیا حرکت کی ہے انہوں نے کہا ہم تو یہاں سے چلے گئے تھے۔لیکن راستہ میں ایک غلام حضرت عثمان کا ملا۔اس کی طرف سے ہمیں شک ہوا ہم نے اس کی تلاشی لی تو اس کے پاس ایک خط نکلا جو گورنر مصر کے نام تھا اور جس میں ہم سب کے قتل کا فتویٰ تھا۔اس لئے ہم واپس آگئے ہیں کہ یہ دھوکا ہم سے کیوں کیا گیا ہے۔ان صحابہ نے ان سے کہا کہ تم یہ تو ہمیں بتاؤ کہ خط تو مصریوں کو ملا تھا اور تم تینوں جماعتوں ( یعنی کو فیوں ، بصریوں اور مصریوں) کے راستے الگ الگ تھے اور تم کئی منزلیں ایک دوسرے سے دور تھے پھر ایک ہی وقت میں اس قدر جلد تینوں جماعتیں واپس مدینہ میں کیونکر آگئیں اور باقی جماعتوں کو کیوں کر معلوم ہوا کہ مصریوں کو اس مضمون کا کوئی خط ملا ہے۔یہ تو صریح فریب ہے جو تم لوگوں نے بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ فریب سمجھو یا درست سمجھو ہمیں عثمان کی خلافت منظور نہیں۔وہ خلافت سے الگ ہو جا ئیں۔اس کے بعد مصری حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اب تو اس شخص کا قتل جائز ہو گیا ہے آپ ہمارے ساتھ چلیں اور عثمان کا مقابلہ کریں۔حضرت علی نے بھی ان کو یہی جواب دیا کہ تم جو واقعہ سناتے ہو وہ بالکل بناوٹی ہے کیونکہ اگر تمہارے ساتھ ایسا واقعہ گزرا تھا تو بصری اور کو فی کس طرح تمہارے ساتھ ہی مدینہ میں آگئے۔ان کو اس واقعہ کا کس طرح علم ہوا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے پہلے سے ہی منصوبہ بنارکھا تھا چلے جاؤ۔خدا تعالیٰ تمہارا برا کرے۔میں تمہارے ساتھ نہیں مل سکتا۔(مصری لوگ خط ملنے کا جو وقت بتاتے تھے اس میں اور ان کے مدینہ میں واپس آنے کے درمیان اس قدر قلیل وقت تھا کہ اس عرصہ میں بصریوں اور کو فیوں کو خبر مل کر وہ واپس مدینہ میں نہیں آسکتے تھے پس صحابہ نے سمجھ لیا کہ یہ لوگ مدینہ سے جاتے وقت پہلے سے ہی منصوبہ کر گئے تھے کہ فلاں دن مدینہ پہنچ جاؤ اور خط کا واقعہ صرف ایک فریب