انوار خلافت — Page 105
۱۰۵ کتنا ہی لائق ہو اور ایک وقت میں تیس چالیس نہیں بلکہ سوسو اسولڑ کوں تک کو بھی پڑھا سکتا ہو لیکن اگر اس کے پاس ہزار دو ہزارلٹر کے لے آئیں تو نہیں پڑھا سکے گا۔رسول بھی استاد ہی ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں آنحضرت صلی عالی امن کی نسبت آیا ہے يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أيتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكّيهم (البقره: ۱۳۰) کہ اس رسول کا یہ کام ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی آیتیں لوگوں کو سنائے۔کتاب کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے۔غرض نبی ایک استاد ہوتا ہے اس کا کام تعلیم دینا ہوتا ہے۔اس لئے وہ تھوڑے لوگوں کو ہی دے سکتا ہے کیونکہ لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو سبق دینا اور پھر یاد بھی کروا دینا کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔پس جب کسی کے سامنے لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کی جماعت سبق لینے کے لئے کھڑی ہو تو ضرور ہوگا کہ اس کی تعلیم میں نقص رہ جائے اور پوری طرح علم نہ حاصل کر سکے یا یہ ہوگا کہ بعض تو پڑھ جائیں گے اور بعض کی تعلیم ناقص رہ جائے گی اور بعض بالکل جاہل کے جاہل ہی رہ جائیں گے اور کچھ تعلیم نہ حاصل کر سکیں گے۔پس آنحضرت صلی یا سلیم کو جب فتوحات پر فتوحات ہونی شروع ہو ئیں اور بے شمار لوگ آپ کے پاس آنے لگے تو ان کے دل میں جو بڑا ہی پاک دل تھا یہ گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ ان تھوڑے سے لوگوں کو تو میں اچھی طرح تعلیم دے لیتا قرآن سکھا سکتا تھا چنا نچہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت سال پیام بڑی پابندی سے صحابہ کو قرآن سکھاتے تھے ) لیکن یہ جو لاکھوں انسان اسلام میں داخل ہورہے ہیں ان کو میں کس طرح تعلیم دوں گا۔اور مجھ میں جو بوجہ بشریت کے یہ کمزوری ہے کہ اتنے کثیر لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا اس کا کیا علاج ہوگا۔اس کا جواب سورۃ نصر میں خدا تعالیٰ نے یہ دیا کہ اس میں شک نہیں کہ جب فتح ہوگی اور نئے نئے لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوں گے تو ان میں بہت سی کمزوریاں ہوں گی۔اور یہ بھی سچ ہے کہ وہ سب کے سب تجھ سے تعلیم نہیں پاسکتے مگر ان کو تعلیم دلانے کا یہ علاج ہے کہ تو خدا