اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 76
76 16 جس تشریح سے حضرت مسیح علیہ السلام کو خاتم النبین یا غیر مشروط طور پر آخری نبی تسلیم کرنا پڑے وہ اسے ہرگز ہرگز تسلیم نہیں کر سکتے۔خواہ انہیں آروں سے چیرا جائے اور خنجروں سے ذبح کر دیا جائے یا زندہ آگ میں جلا دیا جائے۔محضر نامہ کے ماخذ دنیا میں آج حامل قرآن کون ہے گر ہم نہیں تو اور مسلمان کون ہے حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔مولانا اس عظیم الشان محضر نامے میں جو حوالے پیش کئے گئے۔ان کا ماخذ کیا تھا؟ لٹریچر کے حوالے سے کچھ تفصیل بیان فرمائیں؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔میں عرض کرنا چاہتا ہوں رہبر کمیٹی کی خصوصی ہدایت پر محضر نامہ میں شامل جملہ حوالوں کے اصل ماخذ اور بنیادی لٹریچر جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا پورا سیٹ شامل تھا، اسمبلی میں جمع کرانا ضروری تھا۔یہ لٹریچر زیادہ تر خلافت لائبریری ربوہ سے فراہم کیا گیا۔روحانی خزائن کا سیٹ مولا نا عبد المالک خان صاحب ناظر اصلاح وارشاد نے عطا فرمایا اور کچھ کتابیں اور رسائل جن کی تعداد بائیس کے قریب تھی ، خاکسار نے اپنی ذاتی لائبریری سے پیش کیں جو بالکل نایاب تھیں۔میں ضمناً اتنا ضرور بتا دیتا ہوں کہ یہ کتابیں، محضر نامے کی کتابیات جس کو Bibliography کہتے ہیں، دی گئیں ان کی تعدا در جسٹروں اور رسالوں سمیت، قریباً ایک سو ہیں نبنتی ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔اگر وہ نام بتا دیئے جائیں تو مناسب ہوگا۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔اس فہرست میں کتاب کا پورا نام، ایڈیشن ، سن ، صفحہ کتاب، پھر یہ بتایا گیا کہ محضر نامہ کا جو صفحہ ہے اس میں کون کون سی کتابوں کے حوالے دیئے ہیں۔اس کے مطابق ساتھ ساتھ تشریح کی گئی۔میں عرض کر دوں یہ کتابیں تئیس بنڈلوں میں تقسیم کر کے اور دوصند وقوں میں جمع کر کے قومی اسمبلی میں ان کو پہنچائی گئی تھیں اور اس وقت مولانا عطاء الکریم