اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 70 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 70

70 70 حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔اس صورتحال میں جبکہ سرکلر ز کی صورت میں حکومت نے خود بھی شائع کیا اور سرکلرز میں بھی تحریف کی گئی اور دوسری طرف حکومت کا یہ دعویٰ تھا کہ عوامی حکومت نے نوے سالہ مسئلہ حل کیا ہے تو کیا درست صورتحال کو چھپنا چاہئے؟ اس عوامی فیصلہ کو عوام کے سامنے آنا چاہیے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ بالکل اخلاقی طور پر واجب ہے کہ جو فیصلہ عوام کی خاطر کیا گیا ہے وہ عوام کے سامنے آنا چاہئے۔جس بناء پر کیا گیا ہے اس کو بھی واضح ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ لکھا ہے کہ جو صیح معنوں میں منصف ہواس کا فرض ہے کہ جو گواہ ہیں ان کے بھی بیانات کو پوری طرح لکھے۔مدعی کے بیانات بھی اسی کے الفاظ میں آنے چاہئیں اور اس کے سامنے مدعا علیہ کے بھی۔پھر Cross Questions ہوں، پھر جو صفائی کے گواہ ہیں وہ ، پھر صفائی کا وکیل جو کچھ کہ رہا ہے وہ ، پھر لکھنے کے بعد اور تنقیحات قائم کرنے کے بعد ، اپنے فیصلہ میں لکھے کہ فلاں فلاں امور فلاں نے بیان کئے۔یہ حقائق کے مطابق ہیں اور فلاں چیزیں اس کے متضاد ہیں اور حقائق کے خلاف ہیں۔اس حساب سے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں تب جا کر فیصلہ ہوتا ہے۔دنیا میں آج تک یہ کبھی بھی نہیں ہوا کہ کسی مقدمہ میں کسی جج نے صرف اتنا فیصلہ کیا ہو کہ میں اس کو اتنے ہزار جرمانے کی سزا دیتا ہوں یا قید کی سزا دیتا ہوں۔وہ با قاعدہ تنقیحات قائم کر کے، صفائی کے گواہ ، ملزم کے بیانات ، سب چیزوں کو لے کر، ان کو پیش نظر رکھ کر، بحث و تمحیص سامنے رکھ کر پھر اپنے نقطۂ نگاہ کو واضح کر کے کہتا ہے کہ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ ملزم ہے اور اس الزام کے لحاظ سے، فلاں سیکشن کے لحاظ سے، قانون کے لحاظ سے اس کو یہ سزا ہونی چاہئے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ یہ جو فیصلہ کیا گیا اس میں تو بنیاد ہی نہیں ہے۔اس میں یہ لکھا ہی نہیں گیا کہ ہم اس نتیجہ پر کیوں پہنچے ہیں اور فیصلہ سنادیا گیا۔یہ سکھا شاہی کے زمانے میں بھی کبھی نہیں ہوا۔اور سب سے بڑی مصیبت یہ ہوئی کہ جن عوام کے نام پر کیا گیا ان کو اس وقت بھی محروم رکھا گیا تو میں سمجھتا ہوں کہ حق اور انصاف کا تقاضا ہے اور ہم تو چاہتے ہیں کہ دنیا کے سامنے چیز آئے۔ہماری تو اب بھی خواہش ہے کہ وہ شائع کرنے کی بجائے جس طرح کہ میں اس وقت M۔T۔A کے ذریعے سے آپ حضرات سے مخاطب ہوں وہ ہمیں دے دیں ، ہم اسے M۔T۔A پر