اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 68
68 تک اس میں بدلی ہوئی موجود تھیں۔کیوں؟ دنیا کو صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ آپ کا جو مقصد ہے احمدیت کو ختم کرنے کا ، ہم کس طرح پورا کر رہے ہیں۔عوام کو بتانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ عوام کی خاطر اور ان کے نام پر یہ کیا جا رہا تھا۔آپ دیکھیں تو سینکڑوں غلطیاں آپ کو ملیں گی۔اس واسطے اگر اسی شکل میں شائع کر دیا جائے تو دنیا کو پتا لگ جائے کہ اس کے لکھنے والے قرآن کے مخالف تھے۔حدیث کے مخالف تھے۔اور بانی جماعت کے مخالف تو تھے ہی۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔اور اس کے علاوہ میرے علم میں ہے ، بہت سے اہم حوالے جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے غیر احمدی بزرگوں کے پڑھے، وہ بھی اس میں سے مکمل طور پر غائب کر دیئے گئے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔چار روز تک حضور نے جہاد کے مسئلہ پر بحث کی ہے اور وہ ان کتابوں میں جو غیر احمدی علماء نے شائع کی ہیں ، چند صفحوں میں آجاتی ہے۔میں آپ کو ابھی یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دنیا میں یہودیوں نے تحریف کی اور ریکارڈ تحریف کی۔قرآن مجید نے اس کو بتایا ہے۔مگر بیسویں صدی ہی نہیں میں کہتا ہوں کہ یہودیوں کی تاریخ میں بلکہ دنیا کی تاریخ میں اتنی بڑی تحریف نہیں کی گئی جو ان حالات کی اشاعت میں بعض حلقوں کی طرف سے کی گئی ہے۔قصہ صرف یہ تھا کہ یہ جوسرکر ز تھے یہ مفتی محمود صاحب جو دیوبندی مسلک کے تھے اور نورانی صاحب کو یا پروفیسر غفور صاحب، ان سب کو تو با قاعدگی کے ساتھ جارہے تھے ہمیں تو اس بارے میں بتایا ہی نہیں گیا۔میں نے بھی جو حاصل کیا ہے وہ مکرم ومحترم چوہدری انور حسین صاحب شیخو پورہ، اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت فرمائے ، کے پیپلز پارٹی کے ایک دوست تھے جو کہ اس وقت پارلیمنٹ کے ممبر تھے، ان کے ذریعہ سے حاصل کیا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے دوسرے ذرائع سے حاصل کیا ہے۔تو یہ ساری چیزیں ان کے پاس موجود تھیں۔ان علماء نے ایک طرف تو یہ کہا اس پر پابندی لگی ہوئی ہے دوسری طرف یہ کیا کہ دنیا کو تو پتا نہیں ہے کہ یہ سرکلر ز موجود ہیں۔اب کوئی شخص بھی یہ 1277 صفحات کے سرکلر ز کو لے کر دیکھے تو اسے پتا لگے گا کہ چار گھنٹے کی بحث یا چار دنوں کی بحث کو ان حضرات نے اس خلاصے میں سے خلاصہ کر کے دو سطریں اس میں شامل کر دی ہیں اور پھر اپنے مطلب کا اضافہ کر دیا ہے۔لیکن جہاں تک تعلق ہے اسمبلی کے فیصلے سے پہلے اٹارنی جنرل کی تقریر کا وہ