اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 66
66 شدہ چیز عوام کے سامنے نہ آئے۔کہتے یہ تھے کہ عوامی فیصلہ ہے مگر عوام سے بھی بچا کر رکھتے تھے تا کہ عوام احمدی نہ ہو جائیں اور اس سلسلہ میں یہاں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ پابندی کا جہاں تک تعلق ہے یہ اس وقت سے پتہ نہیں کسی وجہ سے اس کو ایک وحی ربانی سمجھتے ہوئے لوگوں میں پھیلا دیا گیا ہے۔ایک سازش کے تحت کہ حکومت نے پابندی لگائی ہے۔حکومت تو خود اس کو صرف ممبران کمیٹی کے لیے شائع کر رہی تھی اور لرز رہی تھی کہ کہیں کسی اور کو پتہ نہ چل جائے۔آپ کا جو سوال ہے میں اس کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔آخری دن سوالات ختم ہوئے تو یکی بختیار صاحب نے جو اٹارنی جنرل تھے، کہا کہ مرزا صاحب! میرے سوالات تو ختم ہو چکے ہیں اب آپ کچھ فرما ئیں۔جو حضور نے فرمایا وہ میں اپنے وقت پر بیان کروں گا۔جب حضور اٹھ کر جانے لگے۔میں بالکل ساتھ کھڑا ہوا تھا۔حضور تشریف لائے اور ان کو الوداعی سلام کہا۔اس موقعہ پر صاحبزادہ فاروق علی صاحب جو اس وقت قومی اسمبلی کے سپیکر تھے اس کا رروائی کے لیے پورے ہاؤس کو پیشل کمیٹی میں Convert کر دیا گیا تھا۔تو اس کمیٹی کے چیئر مین بھی وہی تھے چیئر مین صاحب نے حضرت صاحب سے درخواست کی کہ جب تک ہم یہ روداد شائع نہ کریں، آپ خود بھی پبلک میں اس کے واقعات کو بیان نہ کریں۔اس میں ہرگز یہ نہیں کہا گیا تھا کہ کوئی اور دوسرا شخص بھی بیان نہ کرے۔چونکہ حضور لیڈ رتھے لاکھوں شیدائیوں کے اس واسطے ان کی طرف سے یہی درخواست تھی ، حضور ہی سے تھی کہ آپ اس کو Disclose نہ کریں۔یہی وجہ ہے کہ حضور نے مجھے اجازت دی۔میں کراچی میں اور بہت سارے مقامات میں حضور کے ارشاد کے مطابق گیا اور ان مجالس میں میں نے انہی دنوں میں کارروائی کی باتیں بتائی تھیں یہ حضور سے یہ بات کہی گئی تھی اور حضور نے اس کا اہتمام کیا ہے۔حضور نے کبھی تفصیل نہیں بتائی۔7 ستمبر کے فیصلہ کے بعد جب پہلا جمعہ آیا ہے تو حضور نے فرمایا کہ مجھے فیصلہ کے متعلق ساری دنیا کے احمدیوں کی طرف سے تبصرہ کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔میرے کان میں اب تک خدا کے اس شیر کے یہ الفاظ گونج رہے ہیں۔حضور نے فرمایا No Comments۔میں کوئی Comments نہیں کروں گا۔اور پھر فرمایا کہ جس نے لنڈے بازار سے ایمان خریدا ہے اس کو تو فکر ہو سکتی ہے مگر جس نے اسلام اور ایمان عرش کے خدا سے خریدا ہے، اس کو کوئی غم کی ضرورت نہیں۔