اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 64 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 64

64 اناؤنسمنٹ کے مطابق جو اخباروں میں آچکا ہے۔ریڈیو پر دنیاسن چکی ہے۔سوال کرنے کی اجازت صرف اٹارنی جنرل کو ہے۔نیز آپ مجاز نہیں تھے لیکن آپ نے اجازت دی ہے۔مجھے اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔جب آپ نے یہ اجازت دی ہے اپوزیشن پارٹی کے ایک عالم دین کو کہ وہ سوال کریں پھر مجھے بھی اجازت ملنی چاہئے کہ میں اپنا قائمقام ڈیلی گیشن کے کسی ممبر کو مقرر کروں اور میں مولا نا ابوالعطاء صاحب کو جو پر نسپل جامعہ احمد یہ رہے ہیں اپنا قائمقام مقرر کرتا ہوں۔اب یہ لمحہ بڑا عجیب تھا۔چونکہ وہ ساری سازش اس سے ختم ہوتی نظر آتی تھی لیکن فیصلہ ہو چکا تھا اور ملاں کا خیال تھا کہ حضور اس پر ڈٹے رہیں گے کہ میں جواب نہیں دوں گا، مولا نا ابو العطاء جواب دیں گے۔اب جو رولنگ اسپیکر کی ہوتی ہے وہی حیثیت اس وقت چیئر مین کو حاصل تھی۔چیئر مین نے اس وقت رولنگ یہ دی کہ کمیٹی کے ممبروں کی خواہش ہے کہ جب آپ امام جماعت احمد یہ ہیں۔خود بنفس نفیس موجود ہیں اور جواب دے سکتے ہیں تو آپ ہی کو جواب دینا چاہئے۔اب ملاں سمجھتا تھا کہ یہ موقع ایسا ہے کہ مرزا صاحب کبھی بھی جرات نہیں کریں گے اور آخر دم تک یہ کہتے رہیں گے کہ یہ نہیں ہو سکتا یا تو مولوی کو الگ کریں یا پھر میری طرف سے کوئی نمائندہ تجویز شدہ ہے، اس کو تسلیم کریں لیکن عجیب بات ہے کہ اس وقت بغیر کسی تامل کے حضور نے مائیک جو پہلے حضور کے سامنے تھا اور اب وہ مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب کے سامنے رکھا گیا تھا، اس کو خود اٹھایا اور اٹھانے کے بعد دوبارہ اپنے سامنے رکھا اور فرمایا کہ بالکل ٹھیک ہے۔اگر ہاؤس یہی چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں ہی جواب دوں گا۔اس موقع پر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب حضرت خلیفہ امسح الثالث کے بائیں طرف تشریف فرما تھے اور یہ عاجز ” حضرت خالد احمدیت کی اس کرسی پر تھا جس پر اس سے پہلے آپ وو تشریف فرما ہوتے تھے۔تو یہ تبدیلی اس وجہ سے ہوئی تھی۔کارروائی کی اشاعت پر پابندی کی حقیقت ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب : عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ 1974ء کی بھٹو حکومت نے قومی اسمبلی کی کارروائی کی اشاعت پر پابندی لگائی تھی۔کیا ایسی پابندی تھی ؟