اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 59
59 59 جواب یہ تھا کہ ہم علماء حضرات ہیں اور رمضان مبارک اور تقویٰ اور اسلام کو تم سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔اس لئے یہ اعتراض بالکل غلط ہے۔ہم تم سے بہتر جانتے ہیں کہ روزہ رکھ کر کوئی سخت بات نہیں کی جاسکتی۔روزے دار کو اتنا ہی حکم ہے کہ اگر کوئی مارنے کے لئے آ جائے تو کہا جائے کہ میں روزہ دار ہوں۔اسی لئے میں نے ” تقوی کی انتہائی باریک راہ اختیار کی ہے۔چونکہ آج میرا پروگرام اس بریلوی کی پٹائی کا تھا اس لئے میں نے روزہ رکھا ہی نہیں۔تا کہ رمضان مبارک کا بہترین احترام ہو سکے۔ایوان میں نشستوں کی ترتیب ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: سیلی میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثان تشریف لے جاتے تھے تو ایوان میں بیٹھنے کی کیا ترتیب ہوا کرتی تھی، وفد کی بھی اور دوسرے جو وہاں پر چیئر مین اور دوسرے ممبران تھے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔اسمبلی ہال کے ڈائس پر تو خصوصی کمیٹی کے چیئر مین تشریف فرما ہوتے تھے۔جو پورے ایوان کے اسپیکر بھی تھے یعنی صاحبزادہ فاروق علی صاحب اور ان کے بالکل سامنے دائیں طرف جو کرسیاں تھیں وہ پیپلز پارٹی کے ممبروں کے لئے تھیں، چونکہ پورا ہاؤس ایک کمیٹی میں خصوصی کمیٹی کے نام سے منتقل کر دیا گیا تھا۔بعض لوگوں نے اس وقت ہی رہبر کمیٹی کے بجائے رہزن کمیٹی“ کہا۔۔ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے لیلی نظر آتا ہے مجنوں نظر آتی ہے تو بہر حال رہزن کمیٹی یا رہبر کمیٹی جو بھی تھی تو ان کے چیئر مین کے سامنے جو چیئر ز تھیں۔دائیں طرف ان میں پیپلز پارٹی کے تمیں ممبر جو کہ بطور ممبر کے کمیٹی میں شامل کئے گئے تھے وہ تشریف فرما ہوتے تھے اور انہی میں بعض اب تک میری نگاہ میں ہیں، پیرزادہ عبد الحفیظ صاحب، مولانا کوثر نیازی صاحب اور قیوم خان صاحب یہ سامنے بیٹھے ہوتے تھے۔بائیں طرف جو کرسیاں تھیں وہ مخصوص تھیں اپوزیشن کے دس ممبروں کے لئے ان میں مولانا مفتی محمود صاحب ، مولانا شاہ احمد