اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 45
45 رد کر دیا تھا۔اس لئے احرار نے یہ سمجھا کہ جب تک یہ مشرقی پاکستان الگ نہ ہو جائے اس وقت تک ہمیں ان ممبروں کی ، جو کہ ختم نبوت پر ہمارا ساتھ دینے والے ہیں، اکثریت نہیں مل سکتی۔دراصل یہ قصہ تھا۔مسٹر بھٹو چاہتے یہی تھے کہ متفقہ آئین بنے اور یہ اس وقت کے پاکستان کا تقاضا تھا۔تو اس چانکیہ اور میکاولی کے ان بروز ملاؤں نے نہایت چالا کی اور عیاری اور مکاری کے ساتھ اپوزیشن کے لیڈروں پر زور ڈالا کہ بھٹو صاحب سے اتنا تو ضرور کہا جائے۔جب آئین میں ہم نے یہ شامل کر دیا ہے کہ یہ مسلم مملکت ہے اور اس بات پر بھی ہم متفق ہو چکے ہیں کہ بحیثیت مسلم مملکت کے آئینی لحاظ سے پاکستان کا صدر اور وزیر اعظم مسلمان ہی ہو سکتا ہے تو یہ ایک مسلّمات میں سے ہے لہذا اس کے آخر میں اپنڈیکس (Appendix) کے طور پر وہ حلف بھی ہونا چاہئے کہ جس میں یہ دونوں حلف اٹھائیں کہ ہم مسلمان ہیں۔یہ مرحلہ تھا جو اس وقت پیش ہوا اور بھٹو صاحب کے لئے بھی یہ آسان بات تھی کیونکہ ڈائریکٹ اگر یہ کہا جاتا کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے تو وہ تیار نہ ہو سکتے تھے۔کیونکہ نیا نیا یہ قصہ ہوا تھا اور نہ اس کی ضرورت انہیں تھی اور نہ ملا یہ چاہتا تھا کہ اس وقت یہ کیا جائے۔بنیا درکھنی ضروری ہے۔بنیا د اس چیز پر رکھی کہ دو حلف رکھے گئے۔1956ء کا آئین جو چوہدری محمدعلی صاحب کے زمانے میں سب سے پہلا قائد اعظم کے بعد بنایا گیا، اس میں اتنا تو کہا گیا ہے کہ یہ اسلامی مملکت ہے لیکن یہ کہ اس میں صدر اور وزیر اعظم کو کوئی حلف اٹھانا پڑے گا کہ میں ایک مسلمان ہوں ، نہ تھا۔آج تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے یورپ کے دوروں میں مختلف آئین دیکھے ہیں۔اس کے علاوہ آپ جنوبی ایشیا کے دیکھیں، افریقہ کے دیکھیں، آئین کی بنیاد یہ ہوتی ہے جہاں تک کسی کے عقیدے کا تعلق ہے کہ جو شخص جو عقیدہ رکھتا ہے اس پر بنیا درکھی جاتی ہے۔محمد عربی نبیوں کے سردار رسول پاک ﷺ نے مدینہ میں جو سب سے پہلی مردم شماری کئے جانے کا ارشاد فرمایا۔مسلم کی روایت موجود ہے کہ ”احــصــوالــی کـم یـلـفـظ الاسلام“ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب جواز الاستسرار بالايمان للخائف ) مدینہ کی اسلامی حکومت میں ہر اس شخص کو مسلمان کے طور پر رجسٹر کیا جانا چاہئے جو اپنے تئیں اسلام کی طرف منسوب ہوتا ہے۔