اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 543
543 حضرت قلع الرخام الاولياء الحدين و الفتها الشارخ حضرت عالی ماوالے جہاں مخدوم البل ماع العالم خانی و استان صاحب گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کی وفات حسرت آیات پر ت ۹۲۲ حضرت سولنا جی 4 زمانہ نے دیا اسلام کو داغ اُس کی فرقت کا نجوم رنج و غم جوش بنائی مد نہیں۔اب ہم کہ تھا دریغ علایمی جن کا تمغائے مسلمانی سرا پا دل نہیں یا چشم ہی یہ سخت حیرانی زباں پر اہل ا ہوا کی ہے کیوں آغل تقبیل شاید خوشی کیا اب کسی غم کی بھی گنجایش نہیں دل ہیں اٹھا عالم سے کوئی بانٹے اسلام کا ثانی غم جانجا و جانان کر رہا ہے دل کی دربانی ملکہ کس بے آبادی سے صحرا کو کیا مسکن نہ آئے کس طرح اُن غمزدوں کے حال پر ہونا چمن سے دشت اور گھر میں ہے دیرانی سی یرانی کر جن آفت زدوں کی درددل کرتا ہے درمانی وہ صحرا دیکھنے سے جسکے گھر یاد آرہی جاتا تھا اسید مرگ پر جن کا مدار زندگانی ہو اب اُسکو یاد دلواتی ہے میرے گھر کی دیانی ہے قابل دیکھنے کے اُن کی مایوسی و حیرانی کہاں لوئیمیں کہاں جڑمیں کہاں دل کھو کر رہ ہمیں نہیں ہے سینہ مجروح کم گنج شہیداں سے جگہ خون کرتی ہے دار فا کی تنگ میدانی منائیں جو تھیں دل میں ہوئی ہے سبکی قربانی کف افسوس ملنے کی ہو ہا تھوں کو جب ملت امیدوں کا ہوا ہے خاتمہ یک سخت ہجراں میں کریں کا ہے سے پھر زخم جگر کی ہم مس رانی جسے طول امل سے بھی الم نگلا یہ طولانی