اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 501
501 اس کی 1929 ء سے ساری ہمدردیاں یہودیوں کے ساتھ ہوں۔یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے پرستار یہودیوں سے علیحدہ رہ سکیں۔ان کا تو صبح اور شام اوڑھنا اور بچھونا یہودی کاز (Cause) کوفروغ دینے کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔یہ چیزیں لوگوں نے یہاں پر اس لئے شروع کیں کہ استعمار کی طرف سے اس رنگ میں پروپیگنڈہ کیا گیا کہ مسلمان اس وقت یہود کے نام سے مشتعل ہو سکتے تھے۔حیرت کی بات ہے کہ یہودیوں کے خلاف ضرب کاری، قانونی لحاظ سے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے لگائی تھی۔اس وجہ سے استعماری طاقتیں، جن میں امریکہ اور رشیا وغیرہ آتی تھیں۔انہوں نے اسی بناء پر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی مخالفت کی۔چونکہ حضرت چوہدری صاحب جماعت احمدیہ کی عظیم شخصیت تھے اس لئے پھر اس کے بعد یہ ساری تحریک جماعت احمدیہ کے خلاف کر دی گئی۔ورنہ اندرون خانہ یہ لوگ 1929 ء سے یہودیوں کے ایجنٹ تھے۔لیکن انتہائی چالا کی اور عیاری کے ساتھ انہوں نے یہ تحریک اٹھائی۔اس وجہ سے کہ یہودی کے نام پر اشتعال پیدا ہو سکتا ہے کہ احمدی یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔حالانکہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ہی تو تھے جنہوں نے اس وقت تمام دنیا کے سامنے ثابت کیا کہ قانونی طور پر عقلی طور پر ، اخلاقی لحاظ سے، کسی لحاظ سے بھی امریکہ اور رشیا کی یہ قرارداد تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ مظلوم اور مصیبت زدہ اور ستم رسیدہ عربوں کو ان کے وطن سے نکال دیا جائے اور اس کی بجائے ان ظالموں کو جو کہ ہمیشہ ہی خنجر چھپائے ہوئے محمد عربی علہ کی نعش تک نکالنے کے لئے سازشیں کرتے رہے ہیں ان کو یہاں آباد کیا جائے۔جنہوں نے سارے حربے محمد ﷺ کی زندگی میں بدر کی زمین سے لے کر اور جنگ سے لے کر غزوہ احزاب تک استعمال کئے ،سارے عرب کو اکٹھا کیا۔عرب اکٹھا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔یہ یہود کی کارستانی تھی۔اس کا روپیہ، اس کا ہتھیار، اس کا پروپیگنڈہ، اور اس کی تیاریاں تھیں جس کی وجہ سے سارا عرب اکٹھا ہو کر مدینہ رسول پر حملہ آور ہوا تھا۔تو یہ یہودی تھے جن سے ان کے تعلقات 1929 ء سے ہیں مگر کیونکہ انہوں نے عیاری اور مکاری سے یہودیوں کا ایجنٹ احمدیوں کو قرار دے کر اشتعال دلانا تھا۔خود یہ پس پردہ رہے تا کہ عوام اس بات کو محسوس نہ کر سکیں کہ اصل ایجنٹ تو یہ ہیں۔یہ خود تو نعرہ لگا رہے ہیں۔چنانچہ یہ بات زیادہ دیر تک پوشیدہ رہ نہیں سکتی تھی۔