اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 493
493 ابتداء کی۔انہوں نے پاکستانیوں کو اچھے مسلمان بنانے کی خاطر بھٹو کی عطا کردہ اصلاحات ( قادیانیوں کو اقلیت قرار دو، جمعے کی چھٹی کرو ، گھڑ دوڑ بند کرو، شراب بند کرو ) کی سمت میں مزید آگے قدم بڑھانے کی ٹھانی۔اس کے نتیجہ میں قادیانیوں پر اسلامی شعار استعمال کرنے کی پابندی لگادی گئی۔مسلمانوں اور غیر مسلموں میں تمیز کرنے کی خاطر ہر قسم کے فارموں میں مذہب کا اندراج کرنا ضروری قرار پایا، کسی منصب کا حلف لیتے وقت بھی یہ حلفی بیان دینا اہم تھا کہ مختلف قادیانی نہیں ہے۔وغیرہ۔علاوہ ان کے، قرون وسطیٰ کے عہد کے فقہی اسلام کی کڑوی دوا کی چند خوراکیں پاکستانیوں کو پلوانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔” توہین رسالت کا قانون بنا جس کے سبب غیر مسلم اقلیتوں میں خوف و ہراس پھیلا ، شریعت کورٹ قائم ہوا۔جہاں خصوصاً سرقہ ، حربہ، زنا وغیرہ کے کیس سنے جاتے تھے اور مجرموں کو اسلامی سزائیں دی جانی مقصود تھیں۔( جو ثبوت کا معیار بہت مشکل ہونے کے سبب آج تک نہیں دی گئیں۔) اس عدالت کے جج صرف مسلمان ہو سکتے تھے اور صدر جنرل ضیاء الحق کے رحم وکرم پر تھے۔چونکہ وہی ان کو مقرر کرنے اور ہٹانے کا اختیار رکھتے تھے۔گویا ان اسلامی جوں کو وہ آزادی ضمیر بھی حاصل نہ تھی جو سیکولر عدالتوں کے جوں کو معلق دستور“ کے تحت حاصل تھی۔علاوہ اس کے اس عدالت کو اسلامی عائلی قوانین اور مالی معاملات سے متعلق کیس سنے کا اختیار بھی نہ تھا۔پہلے یہ تجربہ کیا گیا کہ ہائی کورٹوں ہی میں شریعت بیج بنادی جائے اور ابتدائی دور میں ہائی کورٹ لاہور کے دو جوں پر مشتمل شریعت بنچ میں میں سینئر جج کے طور پر بیٹھا تھا لیکن بعد ازاں بعض علماء کے مشورے پر اس عدالت کو علیحدہ فیڈرل نوعیت کا بنادیا گیا۔جہاں تک اسلامی قانون سازی کا تعلق ہے ،اس ضمن میں حدود آرڈینینس نافذ کیا گیا۔نیز ضابطہ قانون شہادت میں عورت کی گواہی نصف کر