اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 444
444 یہ بھی در حقیقت آنحضرت علی کی طرف راجع ہے۔اس لئے میں آپ ہی کا غلام ہوں اور آپ ہی کے مشکوۃ نبوت سے نور حاصل کرنے والا ہوں۔مستقل طور پر ہمارا کچھ نہیں اس لئے وہی زمانہ چل رہا ہے ( یعنی محمد مصطفی ﷺ کا زمانہ۔ناقل ) غلبہ دین کے متعلق مہدی اور مسیح موعود کے وقت کے متعلق ، پہلوں نے لکھا، تفسیر میں بھی ہے اور دوسری ہماری جو مذہبی کتابیں ہیں ان میں بھی ہے۔‘ (سرکار صفحہ 84-85) اس کے بعد حضور نے مختلف تفاسیر کے حوالے پیش فرمائے۔مثلاً تفسیر ابن جریر تفسیر حسینی حافظ محمد نصر اللہ صاحب : ذرية البغایا“ کے حوالہ سے جو اعتراض ہوتا ہے اس پر بھی؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔ہاں جزاکم اللہ اس پہلو کو بھی اجاگر کرنے کی ضرورت تھی۔اس کتاب کی جلد دوم کے صفحہ 114 پر ذریۃ البغایاکی بحث کے متعلق لکھا ہے کہ ( حضرت خلیفہ اسیح الثالث ) ” نے ایوان میں اتنا ہی جواب دیا کہ 66 ذرية البغایا کے معنی کنجریوں کی اولاد نہیں اور پھر کہا کہ خیر آگے چلیں۔“ حالانکہ حضور نے ایوان میں ایسا مدلل اور مسکت جواب دیا کہ گویا دن چڑھا دیا۔اب میں اس کے ثبوت میں گورنمنٹ کے شائع کردہ سرکلر کا حوالہ پیش کرتا ہوں۔لکھا ہے:۔اس مضمون کو دوسری جگہ آپ نے (یعنی مسیح موعود نے۔ناقل ) اس طرح بیان کیا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کے لئے دنیا میں بھیجا ہے اور مجھے بشارت دی گئی ہے کہ تمام نوع انسانی اسلام کو قبول کر لے گی اور صرف وہی باقی رہ جائیں گے جن کی حالت چوہڑوں اور چماروں کی طرح ہو گی۔اور بھی بعض جگہ آیا ہے تو ایک مؤلف کے حوالے کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس قسم کے جو مضمون اس نے بیان کئے ہیں ان سب کو اپنے سامنے رکھا جائے۔یہ عربی کا صیغہ ہے۔یہ حال اور مستقبل دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔حال اور مستقبل ہر دو کے لئے۔دوسرا حوالہ اس میں یہ بتا رہا ہے کہ یہاں مستقبل کے لئے ہے حال کے لئے نہیں۔معنی یہ نہیں